ذرائع کے مطابق بینک آف پنجاب اور دی آفس آف اے آئی کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد صوبے میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو عام کرنا ہے۔
یہ معاہدہ وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت علی ڈار کی قیادت میں طے پایا، جنہوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ شراکت داری پنجاب کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی سمت دے گی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے عملی استعمال کا آغاز ثابت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت نواز شریف آئی ٹی سٹی میں پنجاب کا جدید اے آئی ڈیٹا سینٹر اور فنانشل ڈیٹا ویئرہاؤس قائم کیا جائے گا، جو صوبے میں ڈیٹا انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے 2029 تک پنجاب کو جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا اے آئی سے فعال صوبہ بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت کسانوں، چھوٹے کاروباری افراد اور ہاؤسنگ سیکٹر کے لیے جدید کریڈٹ سسٹم متعارف کروائے جائیں گے، جس سے مالی سہولیات تک رسائی آسان ہو جائے گی،اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے عام شہریوں کو بینکاری اور قرضوں کی سہولتوں میں شفافیت اور سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ منصوبہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا اور ایک لاکھ سے زائد ملازمتوں کے ہدف کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی اسٹارٹ اپس، جامعات اور بین الاقوامی اے آئی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کو بھی فروغ دیا جائے گا تاکہ تحقیق اور جدت کے نئے دروازے کھل سکیں۔
مزید پڑھیں: پیٹرول پمپس پر ڈیجیٹل فیول مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ
ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف صوبے کی معیشت کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا بلکہ پنجاب کو خطے میں ایک اہم ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی مرکز کے طور پر ابھارنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
سفارتی و معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر مؤثر عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد رکھ سکتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔







