ایڈیشنل سیشن جج فیصل جمیل نے سینئر قانون دان منظور قادر بھنڈر ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان اور ایس ایچ او سول لائنز کو نوٹس جاری کر دیے، جب کہ پولیس کو بھی آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کی متنازع تقریر سے قومی سلامتی کے اداروں، شہداء اور ان کے اہل خانہ کے جذبات مجروح ہوئے، لہٰذا ان کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے۔
دوسری جانب لاہور کی سیشن عدالت میں بھی شہداء سے متعلق بیان پر مولانا فضل الرحمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست زیر سماعت ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج ملک لطیف نے درخواست گزار محمد وقار کی درخواست پر ڈائریکٹر این سی سی آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 17 اگست تک ملتوی کر دی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی تقریر سے عوام اور شہداء کے لواحقین کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی، اس لیے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان کے فوج سے متعلق بیان پر سیاسی ہنگامہ، اصل تنازع کیا ہے؟
ادھر چیئرمین پاکستان علماء کونسل علامہ طاہر اشرفی نے بھی مولانا فضل الرحمان کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خلاف بیان پر وہ شہداء کے اہل خانہ سے معذرت خواہ ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر احسن اقبال، ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی اور چیئرمین پی ٹی آئی سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے بھی مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا شہداء اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ زیادتی ہے۔







