لاہور میں جماعت اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کا تین روزہ اجلاس شروع ہو گیا ہے، جس سے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ آٹھ فروری کے دھاندلی زدہ انتخابات کو دو سال مکمل ہو چکے ہیں، مگر ملک میں جمہوری استحکام کے بجائے انتشار اور بے یقینی میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کی نئی لہر نہایت تشویشناک ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں پھیلتے ہوئے انتشار کے اسباب میں اندرونی اور بیرونی عناصر دونوں شامل ہیں، جب کہ موجودہ حکومت عوامی تائید سے محروم ہے اور حکومتی رِٹ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ فوجی آپریشن مسائل کا مستقل حل نہیں۔ دہشت گردی روکنے کے لیے ضروری ہے کہ حکمران تمام اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر جامع حکمتِ عملی اختیار کریں۔
امیر جماعتِ اسلامی نے سابق صدر پرویز مشرف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشرف نے امریکا کی حمایت کر کے ملک کو تباہی کے راستے پر ڈالا اور افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ حکمران بھی وہی راستہ اختیار کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات ملکی خودمختاری کے خلاف ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے غزہ بورڈ سے متعلق موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے جاندار اور اصولی مؤقف اپنایا ہے، میں نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور جلد ملاقات بھی متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی کی واپسی کے پیچھے پی ٹی آئی کا کردار ہے، عطا تارڑ
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ حماس کی پالیسی قابلِ ستائش ہے اور اسلامی تحریکوں کو اس سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔
انہوں نے وادی تیراہ کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنے سے دہشت گردی ختم نہیں ہو گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رہے گی، جب کہ عید کے بعد آئی پی پیز کے خلاف ازسرِ نو بھرپور عوامی سرگرمیوں کا آغاز کیا جائے گا۔







