یونیورسٹی میں منعقدہ نشست میں ملکی سلامتی، داخلی صورتحال، دفاعی امور اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے طلباء کو سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈا، مس انفارمیشن اور حقائق سے آگاہ کیا اور مختلف سوالات کے مدلل جوابات دیے۔

وائس چانسلر نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حوالے سے دیے گئے بیانات اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ کارکردگی دنیا نے بخوبی دیکھی ہے۔ نشست میں شریک اساتذہ و طلباء نے گفتگو کو انتہائی مفید اور موثر قرار دیا اور کہا، “ہم پنجابی، پٹھان، سندھی یا بلوچ نہیں… سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔”

مزید پڑھیں: حکومت آئینی ترامیم کے ذریعے اپنے مفاد کا نظام چاہتی ہے، حافظ نعیم الرحمان


طلباء نے بھی اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “ہم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔” سیشن میں پاکستان کے ہر ضلع اور تحصیل سے طلباء شریک تھے اور انہوں نے سیشن سے بھرپور استفادہ حاصل کیا۔

دورہ قائداعظم یونیورسٹی میں اساتذہ اور طلباء نے ڈی جی آئی ایس پی آر کی گفتگو کو قومی یکجہتی، دفاعی شعور اور سچائی تک رسائی کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا۔