چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران یہ پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو پرسکون رہتے ہوئے براہِ راست رابطوں کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
چین کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وانگ یی نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور جلد از جلد باہمی ملاقاتوں کا اہتمام کریں تاکہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے صورتحال مزید پیچیدہ اور تناؤ میں اضافہ ہوگا۔
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ علاقائی استحکام کے لیے تصادم کے بجائے تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے افغانستان اور پاکستان کو “الگ نہ ہونے والے بھائی اور ہمسایہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جغرافیہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونے دیتا۔
وانگ یی نے واضح کیا کہ چین نے ہمیشہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازع میں غیر جانبدار اور متوازن مؤقف اختیار کیا ہے اور بیجنگ کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چینی وزارت خارجہ کا خصوصی ایلچی دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے لیے مسلسل رابطے اور دورے کر رہا ہے۔
اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وانگ یی نے چین کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بیجنگ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب بھارت میں چین کے سفیر ژو فی ہونگ نے بھی اس مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔







