برینٹ کروڈ فیوچرز آٹھ سینٹ کمی کے بعد 67.87 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 10 سینٹ کمی کے ساتھ 63.95 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔
فیڈرل ریزرو کا فیصلہ لیبر مارکیٹ میں کمزوری کے اشاروں کے ردعمل میں سامنے آیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شرح سود میں کمی عام طور پر تیل کی طلب کو سہارا دیتی ہے۔
مزید براں رائسٹاڈ انرجی کے چیف اکانومسٹ کلاڈیو گیلمبرتی کے مطابق شرح سود میں حالیہ کمی اور متوقع مزید کمی برینٹ کے لیے مثبت عنصر ہوگی جو اوپیک پلس کی پیداوار میں اضافے سے پیدا ہونے والے دباؤ کو کسی حد تک کم کرے گی۔
یاد رہے کہ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی جس کی بڑی وجہ ریکارڈ کم درآمدات اور دو سال کی بلند ترین سطح پر برآمدات تھیں۔

تاہم ڈیزل اور دیگر ڈسٹلیٹ مصنوعات کے ذخائر میں چار ملین بیرل اضافے نے طلب پر سوالات کھڑے کیے اور قیمتوں پر دباؤ ڈالا۔
جے پی مورگن کے مطابق عالمی تیل کی طلب رواں سال اب تک اوسطاً 104.4 ملین بیرل یومیہ رہی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.52 ملین بیرل یومیہ زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ امریکا اور چین میں فضائی سفر کی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں لیکن یورپ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکا میں سرگرمیاں اب بھی بڑھ رہی ہیں۔
واضع رہے کہ فیڈرل ریزرو کا فیصلہ عالمی تیل کی قیمتوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے کیونکہ شرح سود میں کمی سے تیل کی طلب میں اضافے کے امکانات ہیں۔
تاہم تیل کی قیمتوں میں مزید کمی یا اضافے کا انحصار دیگر عوامل جیسے عالمی معیشت کی صورتحال اور اوپیک پلس کی پالیسیوں پر بھی ہوگا۔






