گورنر پنجاب نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خواہش ہمیشہ یہی رہی ہے کہ وہ اپنے ملک کی خدمت کریں اور مسلح افواج کے تینوں سربراہ بھی اس اعزاز کے مستحق ہیں،یہ پہلا موقع ہے کہ جنگ جیتنے کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی بات سننے کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور یہ ہماری قیادت کی عالمی سطح پر مضبوط حیثیت کا ثبوت ہے۔

انہوں  نے اس موقع پر امریکی صدر کے رویے پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ماضی میں صدر اور وزیراعظم کو امریکی حکمرانوں کے ساتھ ملاقات کے لیے مشکلات اور مالی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، لیکن اب پہلی بار امریکی صدر خود پاکستانی قیادت کو دعوت دے رہے ہیں، جو عالمی سطح پر پاکستان کی عزت اور مقام کو ظاہر کرتا ہے۔

گورنر پنجاب نے بھارت کے بارے میں بھی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جنگ کے خواہاں نہیں ہے، جبکہ بھارت ہمیشہ جنگ مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ امن پسندی اور مذاکرات کے لیے تیار رہتا ہے، اور عسکری اور سیاسی قیادت اسی جذبے کے ساتھ ملکی مفادات کی حفاظت کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: کسان کا مسئلہ جاگیردار کو ایوانوں میں بھیج کر حل نہیں ہو گا، اقرارالحسن

انہوں  نے ملکی سیاسی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے حکومت سازی کے لیے پی ٹی آئی کو تعاون کی پیشکش کی تھی، تاہم پی ٹی آئی کے انکار کے بعد پیپلزپارٹی کو ن لیگ کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا، اس اتحاد کے بعد وزیراعلیٰ کے پی کو پنجاب اور سندھ میں سیاسی عزت اور ساکھ حاصل ہوئی، حالانکہ کچھ معاملات میں اس کا پاس نہیں کیا گیا۔

اختتام پر ان کا کہنا تھا  کہ پاکستان کی قیادت اور مسلح افواج ہمیشہ ملک کی حفاظت، قومی سلامتی اور عوام کی فلاح کے لیے مصروف عمل رہیں گی، اور ایسے ایماندار اور محنتی افسران جیسے فیلڈ مارشل عاصم منیر ملک کے لیے فخر اور تحریک کا سبب ہیں۔