جی ایچ کیو راولپنڈی میں ‘معرکۂ حق’ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ انڈیا کا خیال تھا کہ وہ طاقت کا توازن تبدیل کر دے گا، مگر ‘وہ بھول گیا کہ پاکستان نہ پہلے کبھی طاقت سے مرعوب ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہو گا۔’
انہوں نے کہا کہ ‘آج کا دن پوری قوم کے لیے فخر کا باعث ہے اور ہمیں ایسی کامیابی ملی ہے جس پر آنے والی نسلیں بھی ناز کریں گی۔’
آرمی چیف کے مطابق گزشتہ برس مئی میں ہونے والا معرکہ محض دو ممالک کے درمیان جنگ نہیں تھا بلکہ ‘دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ’ تھا، جس میں ‘حق کو فتح حاصل ہوئی۔’
انہوں نے کہا کہ دشمن نے پاکستان کے قومی وقار کو آزمانے کی کوشش کی، تاہم اسے مؤثر جواب دیا گیا۔ ان کے بقول یہ معرکہ اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ پاکستان نے انڈین جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ بعد ازاں انڈیا نے عالمی ممالک کے ذریعے جنگ بندی کی خواہش ظاہر کی، جسے پاکستان نے ‘خطے میں وسیع تر امن’ کی خاطر قبول کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران پاکستان کے قومی وقار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کے دوست ممالک کی تعداد پہلے سے زیادہ ہو چکی ہے۔
خطاب میں انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹیجک دفاعی معاہدے کو بھی پاکستان کی اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔
آرمی چیف نے خبردار کیا کہ ‘پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے نتائج مزید خطرناک، دور رس اور تکلیف دہ ہوں گے’ اور یہ کہ ملک کا دفاع ہر قسم کی جارحیت کے خلاف ‘ناقابلِ تسخیر’ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی ‘ذمہ دارانہ، غیرجانبدارانہ اور مؤثر سفارت کاری’ کے ذریعے تاریخی امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔
فیلڈ مارشل نے امریکی اور ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مذاکرات کے لیے پاکستان پر اعتماد کیا، اور پاکستان اس اعتماد پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ انڈیا اب یہ جان چکا ہے کہ وہ پاکستان کو روایتی جنگ میں شکست نہیں دے سکتا، اسی لیے ‘دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے۔’
تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے افغانستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک خواہش ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کی پشت پناہی نہ کی جائے اور دہشت گردی کے مراکز کا خاتمہ کیا جائے۔






