آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کا مقصد پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ، اسٹریٹجک اور دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے، جب کہ دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

بیان کے مطابق ترکیہ پہنچنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جو پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔

دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیر دفاع یاشار گولر سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورت حال کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ترک جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹرز آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جہاں انہوں نے ترک جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں علاقائی سلامتی، پیشہ ورانہ عسکری تعاون اور دفاعی روابط سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

بیان میں کہا گیا کہ جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے فروغ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ترکش آرمڈ فورسز ڈسٹنگوشڈ سروس میڈل سے نوازا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ترک بری فوج کے ہیڈکوارٹرز کا بھی دورہ کیا، جہاں ترک بری فوج کے کمانڈر جنرل میتن توکل نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے انقرہ میں جدید ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے مزار انیت کبیر پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کثیرالجہتی دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، عسکری تعاون کو وسعت دینے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کا مظہر ہے۔