اسلامی علماء و مشائخ کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج کی تشکیلیں جو افغانستان سے آتی ہیں، ان میں 70 فیصد افغانی شامل ہیں اور افغانستان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ فتنہ الخوارج کا حصہ بنے یا پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔

فیلڈ مارشل نے ملک کو درپیش چیلنجز، دہشتگردی، قومی سلامتی، اقوام عالم میں پاکستان کے ابھرتے کردار، جنگی تیاریوں اور علم کی اہمیت پر مفصل خطاب کیا۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیات اور اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو اسلامی ممالک میں محافظ الحرمین کا شرف عطا کیا۔ ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کے قیام میں مماثلت ہے، دونوں کو کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر رمضان کے بابرکت مہینے میں قائم کیا گیا تاکہ پاکستان خادم الحرمین کے کردار کو انجام دے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص میں اللہ کی مدد نظر آئی اور کسی بھی اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد یا فتویٰ جاری نہیں کر سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی شراکت داری وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے، ترک صدر

فیلڈ مارشل نے اس بات پر زور دیا کہ جن قوموں نے اپنے اسلاف کی علمی و فکری میراث اور قلم کی طاقت کو ترک کیا، وہ زبوں حالی کا شکار ہو گئیں۔

اس موقع پر فیلڈ مارشل نے لیبیا کے آرمی چیف سے ملاقات بھی کی اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔