مریم نواز شریف نے کہا پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر فخر ہے، درپیش چیلنجز سے مل کر نمٹا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جغرافیائی لحاظ سے خطے کا اہم ملک ہے، پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، گڈ گورننس، درست پالیسیاں اور سخت محنت ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ گڈگورننس سے عوامی مسائل کا حل ممکن ہے، عوام کو بہترین سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح، بے لوث اور بلاتفریق خدمت میرا مشن ہے۔ ان کے بقول گڈ گورننس کو ایک گاڑی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی فلاح اور دیرپا ترقی ممکن بنائی جا سکے۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی اور وژن کو عوامی مرکزیت اور ہمدردی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت صرف منصوبوں کی تکمیل نہیں بلکہ عوام کے خوابوں کی تعبیر کے لیے کام کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے طرزِ حکمرانی کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ "ہمدردی" ہوگا، کیونکہ وہ چیزوں کو صرف سیاہ اور سفید میں نہیں دیکھ رہیں، خصوصاً ایک ایسے صوبے کی چیف ایگزیکٹو کے طور پر جو 150 ملین لوگوں کا گھر ہے۔

وزیراعلیٰ نے سیلاب کے دوران حکومت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ تاریخ کے بدترین سیلاب میں بروقت تیاریوں کی وجہ سے دو کروڑ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔یہ نہ صرف انسانی جانوں کو بچانے کا عمل تھا بلکہ لاکھوں جانوروں کی حفاظت بھی ممکن بنائی گئی۔

ان کے مطابق اس دوران پنجاب بھر میں 32 فیلڈ ہسپتال اور ایک ہزار موبائل کلینک قائم کیے گئے، جب کہ انہوں نے ذاتی طور پر سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا، کئی گھنٹوں کا زمینی سفر طے کیا کیونکہ ان کے نزدیک قیادت کا مطلب عوام کے ساتھ موجود ہونا ہے، نہ کہ صرف دفتر سے احکامات جاری کرنا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبے بھر میں تقریباً 25 سو بنیادی صحت مراکز اور تین سو دیہی مراکز صحت کو جدید ترین منی ہسپتالوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پاکستان کا پہلا پبلک سیکٹر کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ ہسپتال بھی تکمیل کے قریب ہے، جس میں ایک ہزار بیڈز کی سہولت موجود ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ دورہ چین پر تھیں تو انہوں نے کینسر کے علاج کے لیے جدید مشین دیکھی جو بغیر سرجری یا کیموتھراپی کے صرف 60 منٹ میں مخصوص اقسام کے کینسر کا علاج کر سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے شرکا کو بتایا کہ صوبے بھر کے باصلاحیت 80 ہزار طلباء کو ہونہار اسکالرشپس دی گئیں ہیں۔ جب کہ ایک لاکھ لیپ ٹاپ بھی رواں سال تقسیم کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دودھ پروگرام کے تحت تقریباً ایک ملین بچے روزانہ دودھ کا پیک حاصل کرتے ہیں، جب کہ ابتدائی تعلیم کے لیے پہلا "سنٹر آف ایکسیلنس" قائم کیا گیا ہے، جو پرائیویٹ اسکولوں سے بہتر معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے، خصوصاً ان بچوں کے لیے جو مالی طور پر کمزور خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت جو اقدامات ہو رہے ہیں، ان کی مثال ملک بھر میں کہیں نہیں ملتی۔ ہر زیر تعمیر عمارت پر ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (EPA) سے منظوری کا بینر آویزاں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سموگ سے نمٹنے کے لیے 15 سموگ گنز درآمد کی گئی ہیں تاکہ سالانہ زندگیوں، تعلیم اور معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے اور 30 ہزار ای بائیکس کی تقسیم کا مقصد بھی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں دیہی ترقی کے لیے ایک جامع پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت 24 ہزار دیہاتوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا آغاز پانچ سو دیہاتوں سے کر دیا گیا ہے، جن میں ہر گاؤں میں 25 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر شامل ہے تاکہ مقامی سطح پر رسائی اور رابطے کو بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم ہے اور موجودہ حالات میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ تمام قومی ادارے متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔ سیلاب سے پچاس لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے، لیکن پوری قوم اور تمام ادارے ایک پلیٹ فارم پر نظر آئے، جو اجتماعی جذبے اور ذمہ داری کی عکاس کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیلاب زدگان کو تین وقت کا کھانا، طبی امداد اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی ان کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے کی گئی۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب کو ترقی، فلاح اور انصاف کا ماڈل بنایا جائے گا تاکہ ہر شہری کو بنیادی سہولیات اور مواقع میسر ہوں۔