وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک میں بجلی کے اضافی ذخائر کو مؤثر طریقے سے استعمال میں لانے کے لیے زراعت اور صنعت کے شعبوں کے لیے بجلی سستی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ پاکستان کے بجلی نظام میں سات ہزار میگاواٹ سے زائد اضافی بجلی موجود تھی جو فروخت نہ ہونے کے باعث ضائع جا رہی تھی۔

وفاقی وزیر تونائی نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے  یا تو بجلی پوری قیمت پر بیچی جائے یا پھر سستی کر کے عوام اور معیشت کو فائدہ دیا جائے۔

اویس لغاری کا کہنا تھا کہ حکومت نے اخراجات کا ازسرِنو تخمینہ لگایا اور وزیراعظم کی منظوری سے زراعت اور صنعت کے لیے نئی رعایتی شرحوں کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے زرعی شعبے کے لیے بجلی 38 روپے فی یونٹ تھی، جسے اب کم کر کے 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح صنعتی شعبے کے لیے نرخ 35 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 22 روپے 98 پیسے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے توانائی کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کسان پچھلے سال 100 یونٹ بجلی استعمال کر رہا تھا اور اب 100 یونٹ مزید استعمال کرے گا، تو اس کی مجموعی اوسط قیمت میں سات روپے فی یونٹ کمی آئے گی۔

اسی طرح صنعت کار اگر اپنی پیداوار میں اضافہ کرتے ہوئے مزید ایک شفٹ چلاتے ہیں، تو ان کے بجلی نرخوں میں پانچ روپے فی یونٹ کمی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ 18 ماہ میں صنعتی بجلی کے نرخوں میں پہلے ہی 16 روپے فی یونٹ کمی کر چکی ہے، جب کہ یہ اضافی کمی اس سے بڑھ کر معیشت کے لیے مزید ریلیف ہے۔

اویس لغاری نے کہاہم نے اپنے عوام سے جو وعدے کیے تھے، وہ پورے کر رہے ہیں۔ ان اقدامات سے ہماری معیشت میں بہتری آئے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔