طالبان حکومت کے ترجمان کے مطابق حملہ کابل میں واقع منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک اسپتال پر کیا گیا۔ تاہم پاکستانی حکام نے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی میں صرف فوجی تنصیبات اور شدت پسندوں کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حملے کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں بڑے پیمانے پر اسلحہ اور بارودی مواد موجود تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہدف شدت پسندوں سے متعلق تھا۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چین نے دونوں ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں اور مذاکرات کی جانب واپس آئیں۔ گزشتہ ماہ شروع ہونے والا یہ تنازع پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ برسوں کی شدید ترین کشیدگیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تقریباً 2600 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے۔

خطے میں یہ کشیدگی ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی دیکھی جا رہی ہے جہاں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے مقام پر تباہی کے مناظر دیکھے گئے جہاں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور آگ کے شعلے بلند ہوتے رہے۔ ایک زخمی شخص احمد نے بتایا کہ دھماکہ قیامت جیسا محسوس ہوا، آگ نے عمارت کو گھیر لیا تھا اور مریض باہر نکلنے میں ناکام رہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سمیت دیگر حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاک ہونے والے عام شہری تھے، تاہم ہلاکتوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

پاکستان نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں اور سکیورٹی اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

ادھر بھارت نے اس مبینہ حملے کی مذمت کی ہے، خاص طور پر اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ واقعہ رمضان کے مقدس مہینے میں پیش آیا، جبکہ چین نے ایک بار پھر دونوں ممالک سے تحمل اور مذاکرات کی اپیل کی ہے۔