تفصیلات کے مطابق یہ مقدمہ متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں تھانہ عادل پور میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی اپنی والدہ کے ہمراہ 3 مئی کو شام کے وقت گھاس کاٹنے گئی تھی۔

درخواست گزار کے مطابق کچھ دیر بعد والدہ نے اپنی بیٹی کی چیخ و پکار سنی، جو قریب واقع ایک مقامی وڈیرے کے ڈیرے کی جانب سے آ رہی تھی۔ جب وہ وہاں پہنچیں تو مبینہ طور پر وڈیرہ مشتاق اپنے پانچ ساتھیوں سمیت موجود تھا، جب کہ ایک شخص نے کلاشنکوف اٹھا رکھی تھی۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے لڑکی کو بے لباس کر کے باری باری اس سے زیادتی کی۔

یہ مقدمہ 19 مئی کو درج کیا گیا، جب کہ ایف آئی آر کے مطابق واقعہ تین مئی کو پیش آیا تھا۔ مدعی نے مقدمہ درج کروانے میں تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ علاقائی معززین سے مشاورت کے بعد قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے پاس آئے۔

یاد رہے کہ اس واقعے سے قبل متاثرہ لڑکی اور اس کے اہل خانہ کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ مبینہ زیادتی کے واقعے کی تفصیلات بیان کر رہے تھے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ کرایا گیا ہے۔ ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا کہ متاثرہ 19 مئی 2026 کو معائنے کے لیے ہسپتال پہنچی، جب کہ اس کے مطابق واقعہ 3 مئی 2026 کو پیش آیا تھا۔

گائناکولوجیکل معائنے کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ لڑکی کی ہائمن برقرار نہیں تھی اور معمولی ویجائنل بلیڈنگ بھی موجود تھی۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ معائنے کے دوران کسی قسم کے ظاہری زخم نہیں پائے گئے۔

ایس ایس پی انور کھیتران نے بتایا کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور متاثرہ کا میڈیکل بھی کرا لیا گیا ہے، تاہم اب تک کسی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔