اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’’پائیدار ترقی، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں جنگوں، ماحولیاتی تبدیلی، غربت اور معاشی عدم مساوات جیسے چیلنجز نے انسانیت کو مشکل دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے،سفارتکاری، بات چیت اور بامعنی مکالمہ ہی تنازعات کے حل اور نئی کشیدگی کو روکنے کا واحد مؤثر ذریعہ ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ پائیدار ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ہو۔ “اگر ترقی کے ثمرات منصفانہ طور پر تقسیم نہ ہوں تو عالمی امن ہمیشہ ایک خواب ہی رہے گا،
انہوں نے خطاب میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان کا ایک ہمسایہ ملک دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی، زراعت اور روزگار کی بنیاد ہے اور پانی کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا خطے کے امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی معاہدوں کے احترام اور آبی وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے پیش نظر اقوام متحدہ کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، بااختیار اور وسائل سے لیس ادارہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی تعاون کے مرکزی ستون کے طور پر مؤثر کردار ادا کر سکے، اقوام متحدہ میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ یہ ادارہ بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکے۔
انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو درپیش قرضوں کے بوجھ، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور تجارتی عدم توازن جیسے مسائل پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ عالمی نظام کو زیادہ منصفانہ اور مساوی بنانا ہوگا۔
وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران پاکستان اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے درمیان تعاون کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ ان معاہدوں کا مقصد پائیدار ترقی، موسمیاتی لچک، تعلیم، صحت اور غربت کے خاتمے کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
سیاسی و عالمی امور کے ماہرین کے مطابق وزیراعظم کا خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں کشیدگی اور تنازعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر مکالمے، سفارتکاری اور منصفانہ ترقی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی حکمت عملی اپنائے، کیونکہ پائیدار امن اور خوشحالی کا خواب صرف باہمی تعاون اور انصاف پر مبنی نظام کے ذریعے ہی شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے۔







