پولیس کے مطابق کارروائی ایک غیر ملکی خاتون کے والد کی جانب سے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اغوا کی اطلاع ملنے کے بعد عمل میں لائی گئی۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے چار ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
دو جولائی 2026 کو درج مقدمے کے مطابق مدعی خاتون کا تعلق نیدرلینڈز سے ہے۔ انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کی ملاقات ملزم رضا ڈار سے اکتوبر 2025 میں سنگاپور میں ہوئی تھی۔
خاتون کے مطابق بعد ازاں ملزم نے انہیں اور ان کی وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دوست کو پاکستان آنے کی دعوت دی اور ویزہ سمیت دیگر سفری دستاویزات کے حصول میں مدد فراہم کی۔
ایف آئی آر کے مطابق دونوں خواتین 29 جون کو پاکستان پہنچیں، جہاں انہیں مبینہ طور پر چند دیگر افراد کی مدد سے اغوا کر لیا گیا۔
مدعی خاتون نے بیان دیا کہ ملزم رضا ڈار پورے واقعے کے دوران خود کو بھی اغوا شدگان میں شامل ظاہر کرتا رہا، تاہم بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ وہ دیگر ملزمان کے ساتھ ملا ہوا تھا۔
مقدمے کے مطابق خواتین کو ایک نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جہاں ان کی رہائی کے بدلے 15 لاکھ روپے تاوان طلب کیا گیا۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دورانِ قید دونوں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے ساتھ باری باری جنسی زیادتی کی گئی۔ متاثرہ خواتین کا یہ بھی مؤقف ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جاتی رہیں تاکہ تاوان کی رقم ادا کی جائے۔
لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق متاثرہ خاتون کے والد کی اطلاع پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سیف سٹی کیمروں اور دیگر شواہد کی مدد سے دونوں خواتین کا سراغ لگایا اور تقریباً دو گھنٹوں کے اندر انہیں بازیاب کرا لیا۔
پولیس نے کارروائی کے دوران چار مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا، جبکہ متاثرہ خواتین کا طبی معائنہ بھی کرا لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مقدمے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور مزید ممکنہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی اعلیٰ سطح پر تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں اور متاثرہ خواتین کو مکمل قانونی تحفظ اور انصاف فراہم کیا جا سکے۔
پنجاب پولیس کے ریکارڈ کے مطابق صوبے میں سال 2025 کے پہلے چھ ماہ، جنوری سے جون تک، ریپ کے تقریباً 1,620 مقدمات درج ہوئے، جو اوسطاً روزانہ تقریباً 9 کیسز بنتے ہیں۔






