دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اس تاثر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا مؤقف فلسطین، غزہ اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام بین الاقوامی معاملات پر اصولی، واضح اور غیر متزلزل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں نیک نیتی کے تحت شمولیت اختیار کی ہے، جس کے تین بنیادی مقاصد ہیں، جو کہ غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم اور برقرار رکھنا، غزہ کی تعمیرِ نو میں معاونت اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور دیرپا امن کو آگے بڑھانا۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اس بورڈ میں تنہا شامل نہیں ہوا بلکہ اس کے ساتھ سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر بھی شامل ہیں۔ یہ آٹھوں عرب و اسلامی ممالک اجتماعی طور پر ایک مشترکہ آواز کے ساتھ غزہ میں امن کے قیام کے لیے سرگرم ہیں اور یہ کوشش گزشتہ برس سے جاری سفارتی اقدامات کا تسلسل ہے۔

ترجمان نے کہا کہ غزہ کے عوام گزشتہ دو برس سے بے مثال تباہی، جانی نقصان اور انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ڈیڈ لاک صورتحال، عالمی عدالتِ انصاف کی آراء اور جنرل اسمبلی کی قراردادیں بھی اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں ناکام رہیں، ایسے میں بورڈ آف پیس فلسطین کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت قائم ایک فریم ورک ہے، جو اقوام متحدہ کے نظام کو تقویت دیتا ہے، کمزور نہیں کرتا۔

پاکستان نے یہ بھی دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب بین الاقوامی استحکام فورس میں فوجی دستے فراہم کرنا بھی نہیں۔

پریس بریفنگ میں وزیرِاعظم شہباز شریف کی ورلڈ اکنامک فورم 2026 میں شرکت، آئی ایم ایف سربراہ سے ملاقات اور پاکستان پویلین سے خطاب کا حوالہ بھی دیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان اور سات عرب و اسلامی ممالک نے غزہ امن منصوبے کی حمایت میں مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کے حالیہ دورۂ متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا، جب کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ڈیووس اور بعد ازاں یو اے ای میں اہم سفارتی اور اقتصادی ملاقاتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران جوہری معاہدہ کرے ورنہ اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

ایران سے متعلق سوالات پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان جنگ، طاقت کے استعمال، پابندیوں اور داخلی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہے اور ہمیشہ مذاکرات و سفارتکاری کا حامی رہا ہے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ حالیہ دنوں میں پاکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطے ہوئے ہیں۔

کشمیر سے متعلق سوال پر دفتر خارجہ نے انڈین عدالت کی جانب سے یاسین ملک کے خلاف فیصلے کو انصاف کا مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور تمام ممکنہ بین الاقوامی فورمز پر آواز بلند کرتا رہے گا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم سے غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی امداد، تعمیرِ نو اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔