وزیرِ اعظم کے ہمراہ نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ محمد اسحاق ڈار اور وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ بھی وفد میں شامل ہیں۔
شرم الشیخ ائیرپورٹ پہنچنے پر مصری یوتھ و اسپورٹس کے وزیر ڈاکٹر اشرف صبحیی، پاکستان کے مصر میں سفیر عامر شوکت اور دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارتی عملے نے وزیرِاعظم کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں خصوصی طور پر شریک ہوں گے۔
وزیرِاعظم نے شرم الشیخ پہنچ کر اپنے ایکس پیغام میں کہا کہ یہ تاریخی لمحہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کی جانب ایک نہایت اہم قدم ہے۔ انہوں نے میزبان صدور صدر السیسی اور صدر ٹرمپ کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس تاریخی معاہدے میں صدر ٹرمپ کی غیر معمولی قیادت اور امن کے لیے ان کی غیر متزلزل وابستگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ یہ امن کی کوششیں اس نتیجے کی بنیاد ہیں کہ بے معنی خونریزی اور تباہی کا سلسلہ ختم ہوا۔
شہباز شریف نے اس تقریب کو نسل کشی کے ایک سیاہ باب کے اختتام کی علامت قرار دیا اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ دوبارہ کبھی ایسے واقعات نہ دہرائے جائیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہادر اور ثابت قدم فلسطینی اس بات کے مستحق ہیں کہ وہ ایک آزاد فلسطین میں زندگی گزاریں، جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے والی ہوں اور دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
یہ اجلاس مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے سے جاری بحران کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے لیے پائیدار امن قائم کرنے کی عالمی کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔







