قاہرہ میں مختلف فلسطینی تنظیموں کے اجلاس کے بعد حماس نے اعلان کیا ہے کہ یہ ملاقات قومی یکجہتی کی بحالی کے لیے ایک جامع ’قومی مکالمے‘ کی تیاریوں کا حصہ تھی۔
حماس کے جاری کردہ بیان کے مطابق فلسطینی تنظیموں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ مرحلہ ایک قومی مؤقف اور مشترکہ سیاسی وژن کا تقاضا کرتا ہے جو غزہ، مغربی کنارے اور بیت المقدس کو ضم کرنے کی کوششوں، اس پر قبضے یا فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتا ہو۔
بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی تنظیموں نے کچھ اہم نکات پر اتفاق کیا ہے جن میں جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد اور اس کے تحت تمام اقدامات کو جاری رکھنا، جن میں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنا اور تمام گزرگاہوں کو کھولنا شامل ہے۔
فلسطینی تنظیموں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ غزہ کی انتظامیہ کو ایک عبوری فلسطینی کمیٹی کے سپرد کیا جائے جو آزاد اور غیر سیاسی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہو۔
اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے بین الاقوامی نگران کمیٹی قائم کی جائے گی جو مالی معاونت اور منصوبوں کے نفاذ کی نگرانی کرے۔
فلسطینی تنظیموں کے اجلاس میں غزہ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے خلاف ہر قسم کے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔
غزہ امن معاہدے کی کامیابی کے لیے پر عزم ہیں، حماس
حماس ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جنگ بندی کے بعد سے اب تک 90 فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزیوں میں رفح بارڈر کی بندش اور امدادی کی فراہمی روکنے کی کوششیں شامل ہیں۔
حماس نے مقبوضہ مغربی کنارے کواسرائیل میں ضم نہ کرنے کے امریکی مؤقف کو سراہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ غزہ امن معاہدے کی کامیابی اوراس کے نفاذ کو یقینی بنانے کےلیے حماس پُرعزم ہے۔
حماس کو غزہ امن معاہدے کےلیے مصر، قطر اور ترکیے سے واضح ضمانتیں موصول ہوئی ہیں، امریکا کی جانب سے بھی اسکی براہِ راست تصدیق کی گئی۔
حماس ترجمان نے مزید کہاکہ امریکا کا مقبوضہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم نہ کرنے کا موقف ایک مثبت قدم ہے۔
حماس ترجمان کے مطابق انہوں نے زندہ یرغمالیوں اور متعدد لاشیں اسرائیل کے حوالے کرکے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کیا۔







