گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر کے مطابق پولیس اہلکار علاقے میں افیوم کی فصل تلف کرنے کے بعد واپس آ رہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں گزشتہ چند روز سے افیوم کی کاشت کے خلاف آپریشن جاری تھا۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ پیر کی دوپہر ایک بج کر 50 منٹ پر چلاس کے علاقے ’تھور سری‘ میں پیش آیا، جہاں پانچ سے چھ مسلح افراد نے پولیس ٹیم پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور جدید ہتھیاروں سے لیس تھے۔

واقعے کے فوراً بعد دیامر سے پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، جہاں حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام اس آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

واضح رہے کہ چلاس اور اس کے نواحی علاقوں میں اس نوعیت کے واقعات ماضی میں بھی پیش آ چکے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں مسلح گروہ موجود ہیں، جو خود کو مختلف تنظیموں سے منسلک ظاہر کرتے ہیں، جب کہ سرکاری املاک کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔

دیامر پولیس کی جانب سے گزشتہ روز ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی، جس میں اہلکاروں کو افیوم کی فصل تلف کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق ’تھور ویلی‘ میں افیوم کی کاشت کے خلاف گرینڈ آپریشن کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا گیا تھا، جس کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

مقامی رہائشی جعفر فیصل نے بتایا کہ واقعہ ان کے گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔ ان کے مطابق اطلاع ملنے پر جب وہ موقع پر پہنچے تو وہاں پولیس اہلکاروں کی لاشیں موجود تھیں، جبکہ کچھ زخمیوں کو مقامی افراد پہلے ہی ہسپتال منتقل کر چکے تھے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ علاقے میں ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کے باعث ایک لاش کو پیدل ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ کچھ دیگر اہلکاروں کو بھی مسجد سے نکال کر ہسپتال پہنچایا گیا۔

تھور کا مقامی ہسپتال جائے وقوعہ سے تقریباً 20 سے 30 منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد زخمیوں کو چلاس ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔