اتوار کو ہونے والی پولنگ کے دوران مختلف حلقوں میں ووٹرز کی بڑی تعداد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے ہی ووٹرز کا رش دیکھنے میں آیا جب کہ پولنگ کا عمل بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا۔

اب تک موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل نتائج سامنے آچکے ہیں۔

ان نتائج کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے، جب کہ 5 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 3 اور مجلس وحدت مسلمین نے ایک نشست حاصل کی ہے۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے جی بی اے 1، 4، 5، 7، 9، 10، 11، 12 اور 19 میں کامیابی حاصل کی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جی بی اے 18، 20 اور 22 میں فتح حاصل کی، جب کہ مجلس وحدت مسلمین نے جی بی اے 8 میں کامیابی سمیٹی۔

اسی طرح جی بی اے 3، 6، 21، 23 اور 24 میں آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں، جس کے باعث آزاد ارکان بھی حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اہم حلقوں کے نتائج کے مطابق جی بی اے 1 گلگت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین 10 ہزار 594 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، جب کہ مسلم لیگ (ن) کے محمد شفیق الدین دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 3 گلگت میں آزاد امیدوار سید سہیل عباس نے کامیابی حاصل کی، جب کہ جی بی اے 4 نگر میں پیپلز پارٹی کے محمد علی اختر اور جی بی اے 5 نگر میں ذوالفقار علی مراد کامیاب قرار پائے۔

اسکردو کے حلقوں میں بھی پیپلز پارٹی نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ جی بی اے 7 میں سید توقیر مہدی، جی بی اے 9 میں فدا محمد ناشاد اور جی بی اے 10 میں ناصر علی خان کامیاب ہوئے، جب کہ جی بی اے 8 اسکردو میں مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم نے کامیابی حاصل کی۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے، حکومت بنانے کی کوشش کریں گے، بلاول بھٹو

شگر اور کھرمنگ میں بھی پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا، جہاں عمران ندیم اور اقبال حسن کامیاب قرار پائے۔ غذر کے حلقہ جی بی اے 19 میں بھی پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ نے کامیابی حاصل کی۔

دوسری جانب استور، دیامر اور چند دیگر حلقوں کے نتائج تاحال مکمل نہیں ہوئے، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے درمیان کانٹے دار مقابلہ جاری ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ نتائج کی روشنی میں پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم حتمی حکومتی تشکیل کا انحصار باقی نشستوں کے نتائج اور آزاد امیدواروں کی سیاسی وابستگیوں پر ہوگا۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر انتخابات منعقد ہوئے ہیں اور تمام حلقوں کے سرکاری نتائج الیکشن کمیشن کی جانب سے مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔