الیکشن کمیشن کی جانب سے گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے اُمیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی گئی جہاں 24 انتخابی حلقوں میں مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں آئیں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں 272 آزاد امیدوار میدان میں ہیں، مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر 131 امیدوار انتخابی دوڑ کا حصہ بنے ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے 23 مسلم لیگ ن کی جانب سے 22 اور استحکام پاکستان کی جانب سے 15 امیدوار نامزد کیے گئے ہیں البتہ تحریک انصاف کے امیدوار آزاد حثیت سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں
7 جون کو ہونے والے انتخابات کے لیے سیاسی میدان مکمل طور پر سج چکا ہے۔
برف پوش پہاڑوں اور سرد موسم کے باوجود خطے میں سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں اور مختلف جماعتیں ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان میں تقریباً ساڑھے نو لاکھ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تینوں جماعتیں خطے میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
گلگت بلتستان کے انتخابات نہ صرف مقامی سیاست بلکہ قومی سیاسی منظرنامے کے لیے بھی اہم تصور کیے جا رہے ہیں
اس وقت تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت نواز شریف، بلاول بھٹو، بیرسٹر ظفر گوہر سمیت کئی اہم سیاسی شخصیات براہ راست انتخابی مہم کا حصہ بن چکی ہے
ماضی کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو گزشتہ تین انتخابات میں وفاق میں برسرِ اقتدار جماعت ہی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ اسی تناظر میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا اس بار بھی مسلم لیگ (ن)، جو وفاق میں حکمران اتحاد کا حصہ ہے، خطے میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگی یا ووٹرز کسی نئی سیاسی تاریخ کو جنم دیں گے۔






