گورنر مہدی شاہ نے جاتی امرا لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے وسائل ہمارے ہیں لیکن ان سے فائدہ پورے پاکستان کو پہنچ رہا ہے، جب کہ یہاں کے عوام حق تلفی کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکز میں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی اتحادی حکومت ہے مگر ہمیں کچھ نہیں مل رہا۔

مہدی شاہ نے بتایا کہ ہر صوبہ اپنے حصے کے حقوق کا مطالبہ کرتا ہے اور اگر گلگت بلتستان علیحدہ صوبہ بنے گا تو یہاں کے حقوق اور وسائل کا پورا شیئر ملے گا۔

انہوں نے بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے پانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیداوار کا زیادہ فائدہ ہمارے علاوہ پورے پاکستان کو پہنچ رہا ہے۔

گورنر نے 27 ویں آئینی ترمیم کے تحت اپنے دو مطالبات بھی دہرائے کہ اسمبلی میں سیٹوں کی تعداد 24 سے بڑھا کر 30 کی جائے۔

بجلی کے حوالے سے وعدہ کیا گیا شیئر پورا کیا جائے اور اسے موجودہ حالات میں 50 میگا واٹ بجلی بھی فراہم کی جائے۔

مہدی شاہ نے کہا کہ گلگت بلتستان باقی صوبوں کی نسبت خودمختار طریقے سے پاکستان میں شامل ہوا، اور الیکشن کے وقت سیاستدان وعدے کرتے ہیں۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحادی ہونے کے باوجود علاقے کے لیے فائدہ نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر حقوق کا تحفظ نہ ہوا تو گلگت بلتستان میں احتجاجی تحریک شدت اختیار کر سکتی ہے۔