غیرملکی خبررساں ادارے اردو نیوز کے مطابق کراچی سے اسلام آباد آنے والی گرین ایکسپریس میں مسافروں نے دورانِ سفر کھٹملوں کی بڑی تعداد کی شکایت کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کھٹمل سیٹوں اور برتھوں پر رینگ رہے ہیں، جب کہ مسافر انتہائی پریشانی کی حالت میں دکھائی دے رہے ہیں۔

بوگی نمبر پانچ میں سفر کرنے والے ایک مسافر محمد حسین (فرضی نام) نے غیرملکی خبررساں ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ رات کو کھٹملوں نے ستا کر رکھ دیا، متعدد بار ٹرین منیجر کو شکایت کی لیکن کوئی فوری ایکشن نہیں ہوا۔ چادریں بھی بدلیں مگر کھٹمل پھر بھی کم نہیں ہوئے۔

ایک اور مسافر زاہد کاظمی نے بتایا کہ میں دس ہزار روپے سے زائد کرایہ دے کر سفر کر رہا ہوں، لیکن انتظامات اتنے خراب ہیں کہ کھٹملوں کی وجہ سے نیند پوری نہیں ہو پائی۔ مسافروں کے مطابق کیبنز میں بدبو، کھٹملوں کے نشانات اور صفائی کی ناقص صورتحال پہلے دن سے ہی واضح تھی۔

اس معاملے پر رابطہ کرنے پر پاکستان ریلوے کے ترجمان بابر رضا نے اردو نیوز کو بتایا کہ ٹرین روانہ ہونے سے پہلے بوگیوں میں باقاعدہ سپرے کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسافروں نے کراچی سے روانگی کے بعد حیدرآباد اسٹیشن پر خود سے سپرے کروایا، جس سے چھپے ہوئے کھٹمل باہر آگئے۔ دورانِ سفر سپرے کرنا مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

تاہم مسافروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سپرے خود نہیں کروایا بلکہ بار بار شکایت کے باوجود ٹرین منیجر نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے واقعات عام نہیں ہوتے اور یہ شکایت صرف ایک مخصوص بوگی تک محدود ہے، باقی بوگیوں سے ایسی شکایات نہیں ملیں۔

ٹرانسپورٹ امور کے ماہرین کے مطابق گرین ایکسپریس کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر ریلوے کے انتظامی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر دی ہے۔ صفائی، نگرانی اور جراثیم کشی کا نظام مؤثر نہیں، مسافروں کی شکایات سنجیدگی سے نہیں لی جاتیں، ریلوے کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ریلوے نے اگر حقیقی بہتری لانی ہے تو صفائی، نگرانی اور عملے کی تربیت کے نظام کو مستقل بنیادوں پر بہتر بنانا ہوگا۔

ترجمان کے مطابق واقعے کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔