پاکستان کے پاسپورٹ سروسز مسلسل دوسرے دن بھی مکمل طور پر معطل ہیں۔ نہ کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ، نہ کوئی واضح ٹائم لائن… اور نہ ہی یہ یقین کہ سروسز کب دوبارہ بحال ہوں گی۔

دبئی، ابو ظہبی، ریاض اور دیگر شہروں میں پاکستانی قونصل خانوں اور سفارت خانوں کے باہر معمول کی سرگرمیاں رک چکی ہیں۔ وہ لوگ جو روزانہ 800 سے 1000 کی تعداد میں پاسپورٹ کی تجدید، نئے پاسپورٹ یا دیگر دستاویزات کے لیے آتے تھے، اب بے یقینی کا شکار ہیں۔

یہ مسئلہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہا بلکہ متعدد ممالک میں پاکستانی ایمبیسی اور قونصلیٹ اس تکنیکی خرابی کی زد میں آ چکے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ یہ مسئلہ تکنیکی اور مینٹیننس کی وجہ سے ہے، لیکن ابھی تک اس کی مکمل تفصیل واضح نہیں کی گئی۔

پاکستانی حکام کے مطابق یہ ایک تکنیکی گڑبڑ ہے جو ایک ساتھ کئی ممالک میں پاسپورٹ سسٹم کو متاثر کر رہی ہے۔

اس صورتحال نے خاص طور پر ان افراد کو متاثر کیا ہے جو سفر، اقامہ کی تجدید، یا ویزا معاملات کے لیے وقت پر پاسپورٹ کی ضرورت رکھتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قونصل خانے سے عوام کو ہدایت دی گئی کہ وہ غیر ضروری طور پر دفاتر کا رخ نہ کریں اور اگر ممکن ہو تو آن لائن پاسپورٹ سسٹم استعمال کریں۔ تاہم بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ڈیجیٹل سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، اور وہ اب مکمل طور پر انتظار کی حالت میں ہیں۔

غیر رسمی اطلاعات کے مطابق، امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ سروسز 4 مئی تک بحال ہو سکتی ہیں، لیکن اس کی کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔

حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جیسے ہی سروس بحال ہوگی، کمیونٹی کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ لیکن اس وقت اصل سوال یہی ہے:

آخر یہ تکنیکی مسئلہ کب حل ہوگا، اور ہزاروں متاثرہ افراد کب اپنی نارمل زندگی کی طرف واپس جا سکیں گے؟