خواتین کے احتجاجی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں فرسودہ نظام کے باعث عوام کو بنیادی حقوق نہیں مل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی نظام نے عوام کو تقسیم کیا جبکہ حکمران طبقہ مراعات حاصل کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طبقہ 78 سال سے ملک پر حکمرانی کر رہا ہے، جس میں 35 سال براہ راست مارشل لا کے ادوار بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق نااہل حکمرانوں نے اعتراف کرلیا ہے کہ وہ ملک چلانے میں ناکام رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے بجلی کے نرخوں اور آئی پی پیز معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے بجلی کی مد میں اضافی وصولیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز معاہدوں کا فرانزک آڈٹ کیا جائے اور ایسے معاہدے ختم کیے جائیں جو عوام پر بوجھ بن رہے ہیں۔
پیٹرولیم لیوی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عوام کے لیے اضافی ٹیکس بن چکی ہے، جس سے خاص طور پر عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کروڑوں موٹر سائیکل استعمال کرنے والے عام لوگ ہیں، جو کسی حکمران طبقے کے افراد نہیں بلکہ محنت کش شہری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلیوں میں بیٹھے لوگ ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں لیکن اپنی تنخواہوں میں اضافہ کر لیتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے سوشل میڈیا اور سڑکوں دونوں محاذوں پر متحرک ہوں۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ کل سے ملک بھر میں چھوٹی ریلیاں نکالی جائیں گی جبکہ 7 اگست کو بڑے شہروں میں احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے چترال تک اہم شاہراہیں بند کی جائیں گی، تاہم ایمبولینس کو راستہ دیا جائے گا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی ختم کرکے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی کی جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے ریاستی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کسی ایک فرد یا ادارے کا نام نہیں بلکہ عوام کا نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قائداعظم کی قیادت میں عوامی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں جاری مسائل پر صرف بیرونی مداخلت کا الزام لگا کر ذمہ داری سے بچا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے تمام فریقین سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
مارچ کا آغاز حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان کی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر حمیرا طارق کی قیادت میں ہوا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، ڈپٹی مرکزی سیکریٹری ثمینہ سعید، ناظمہ سندھ رخشندہ منیب اور ناظمہ کراچی جاوداں فہیم سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
احتجاجی مارچ میں شریک خواتین نے مختلف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر پیٹرول کی قیمتوں میں کمی، پیٹرولیم لیوی کے خاتمے، مہنگائی کے خاتمے اور عوامی مسائل کے حل کے مطالبات درج تھے۔







