اجتماع عام بدل دونظام مینارِ پاکستان کے مرکزی کیمپ کے افتتاح پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جس کے پاس جتنی دولت ہے وہ اتنی اچھی تعلیم خریدتا ہے، پاکستان کے لوگوں کو ایک جیسی تعلیم نہیں ملتی اور جس قوم میں تعلیم کا معیار دولت کی بنیاد پر تقسیم ہوتا ہو وہ کیا قوم بنے گی؟

انہوں نے کہا کہ ہمیں پورے نظام تعلیم سے اسی کشمکش کو نکالنا ہوگا، ایک بہترین نصاب جو پوری قوم کو تشکیل دے سکے وہ بنانا ہوگا ایک نصاب ایک نظام اس کے ذریعے سے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں، اس کا پورا نقشہ ہم آپ کے سامنے پیش کریں گے۔ 

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ہم اعلان کرتے رہتے ہیں کہ 2027 تک سود کے نظام کو ختم کردیں گے لیکن یہ لعنت ہم پر مسلط ہے، پچھلے اور موجودہ آرمی چیف بزنس کمیونیٹیز سے ملتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم مارچ 2025 تک انٹرسٹ ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لے آئیں گے، لیکن تاحال انٹرسٹ ریٹ 11 فیصر پرچل رہا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ اسے ختم نہیں کرنا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے کہ جب تک سود کی لعنت موجود ہے معیشیت پنپ نہیں سکتی، ہمارا دین ہمیں بتاتا ہے کہ امیروں کی عمارت غریبوں کے استحصال پر نہیں ہوگی، سب کو ایک جتنے مواقع میسر ہوں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مزدور طبقے اور خواتین کا بدترین استحصال جاری ہے۔ ورکنگ کلاس خواتین کو نہ تحفظ حاصل ہے، نہ ہی ان کی عزت اور وقار کا خیال رکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں کوئی عدالت ایسی نہیں جو خواتین کے ہراسانی کے مسائل کو عزت و احترام کے ساتھ حل کر سکے۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ملک میں آج بھی بہت سی خواتین کو وراثت میں ان کا شرعی حصہ نہیں دیا جاتا اور جماعت اسلامی اس حوالے سے ان کی آواز بنے گی اور خواتین کو ان کے حقوق دلانے کی تحریک شروع کرے گی۔

کسانوں کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان میں 97 فیصد کسان چھوٹے کاشتکار ہیں جو قرضوں اور مہنگی زرعی لاگت کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ بڑے جاگیردار اور زمیندار اربوں روپے کماتے ہیں مگر انکم ٹیکس میں ان کا حصہ محض چند ارب روپے ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقہ 500 ارب روپے سے زائد ٹیکس دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام چھوٹے کسانوں پر ظلم ڈھانے کا ذریعہ بن چکا ہے، ان کے لیے کھاد، بیج اور زرعی دوائیں سب مہنگی ہیں، مگر کوئی ان کی بات نہیں سنتا۔ "کارپوریٹ فارمنگ" کے نام پر ایک نیا استحصالی نظام مسلط کیا جا رہا ہے، جو جاگیرداری کی جدید شکل ہے۔

حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی اس کے مقابلے میں "کواپریٹو فارمنگ" کا ماڈل پیش کر رہی ہے، جس میں کسان خود زمین کے مالک ہوں گے، فیصلے ان کے ہاتھ میں ہوں گے اور نفع و نقصان سب کے درمیان منصفانہ طور پر تقسیم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک نظام میں بنیادی تبدیلی نہیں لائی جاتی، نہ معیشت مضبوط ہو سکتی ہے، نہ معاشرہ منصفانہ۔ یہ کسی ایک مسئلے کے حل کی نہیں بلکہ نظام بدلنے کی بات ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ موجودہ بیوروکریسی اور حاکم طبقے کی ذہنی ساخت عوام کو غلام سمجھتی ہے اور یہی نظام سیاسی جماعتوں کی کارکردگی کو محدود کرتا ہے۔ جاگیردار، ملٹری و سول اسٹیبلشمنٹ اور مخصوص سرمایہ دار ایک مشترکہ اشتراک کے ذریعے عوام کی اکثریت کو اپنے کنٹرول میں رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی چہروں کی تبدیلی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، اصل ضرورت نوجوانوں کو ہنر مندی اور اسکلز فراہم کرنا ہے۔ جماعت اسلامی کا "بنو قابل" پروگرام اسی خلا کو پر کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے جس میں اب تک 12 لاکھ سے زائد نوجوانوں نے اندراج کیا اور ہزاروں طلبہ کامیابی سے پاس آ چکے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پروگرام کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے فیز دو میں 20 لاکھ نوجوانوں کو مفت تربیتی کورسز فراہم کیے جائیں گے اور یہ نصاب یونیورسٹی ڈگری پروگرام تک لے جایا جائے گا۔

حافظ نعیم نے کہا کہ "بنو قابل" کے تحت کروائے جانے والے ٹیسٹ اور کلاسز سے ہزاروں نوجوان مستفید ہو چکے ہیں اور یہ ماڈل ریاست کے سامنے سوالیہ نشان ہے کہ وہ یہ تعلیم کیوں فروغ نہیں دے سکتی۔ آئی ٹی اس دور میں سب سے بڑی ضرورت ہے اور یہی شعبہ ملک کو آگے لے جائے گا۔

توانائی اور آئی پی پیز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی نے عوامی جدوجہد اور احتجاج کے ذریعے کچھ آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ کروا دیے جس کے نتیجے میں خزانے کو 3600 ارب روپے کا فائدہ پہنچا اور فی یونٹ بجلی کی قیمت میں ساڑھے سات روپے کمی ہوئی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ عوامی مطالبات کو منظم انداز میں سامنے لا کر حقیقی نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کا ماڈل مسائل کو اجاگر کرکے منطقی انجام تک پہنچانے پر مبنی ہے اور اس سے نوجوانوں، خواتین، مزدوروں اور کسانوں کو نئی امید ملے گی۔

انہوں نے عوام خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں شامل ہوں اور اعلان کیا کہ آئندہ بڑے اجتماعات اور تربیتی سیشنز کا اہتمام کیا جا رہا ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں شرکت متوقع ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ یہ اجتماع نوجوانوں کی امنگوں کا ترجمان بنے گا اور اس تحریک کو ملک بھر میں پھیلایا جائے گا تاکہ ریاست اور سماج کو بنیادی طور پر تبدیل کیا جا سکے۔