رات تقریباً 11 بج کر 47 منٹ پر عدیل احمد اپنی اہلیہ کے ماموں کے گھر پہنچے اور گاڑی گھر کے سامنے ایک دیوار کے ساتھ کھڑی کر دی۔ یہ دیوار کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے دفتر کی تھی۔ عدیل احمد گاڑی سے اترے اور دروازے کی گھنٹی بجائی، لیکن گھنٹی خراب ہونے اور اہلِ خانہ کے سوئے ہونے کے باعث کوئی جواب نہ ملا۔

اسی دوران ایک موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد وہاں پہنچے اور مبینہ طور پر خاندان کو یرغمال بنا کر لوٹنے کی کوشش کی۔ گاڑی میں عدیل احمد کی اہلیہ اور دو کمسن بچے بھی موجود تھے۔ اہلِ خانہ نے مزاحمت کے بجائے اپنی جان بچانے کو ترجیح دی اور زیورات ڈاکوؤں کے حوالے کر دیے۔

پنجاب پولیس کے مطابق اسی دوران قریب موجود سی سی ڈی کے ایک اہلکار نے مبینہ ڈکیتی دیکھ کر کارروائی کی اور فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے بھی جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ بعد ازاں ڈاکو گاڑی کے پیچھے پناہ لینے کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

تاہم اصل سانحہ اس کے بعد پیش آیا۔

عدیل احمد کے مطابق جب وہ خوفزدہ ہو کر اپنی گاڑی وہاں سے لے کر روانہ ہوئے تو سی سی ڈی اہلکار نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا۔ مبینہ طور پر گاڑی نہ رکنے پر اہلکار نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ اہلکار نے غلط فہمی میں یہ سمجھا کہ ڈاکو اسی گاڑی میں فرار ہو رہے ہیں۔

فائرنگ کے نتیجے میں نو سالہ ہانیہ احمد موقع پر جاں بحق ہو گئیں جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور بڑے بھائی عفان شدید زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونے کے باوجود عدیل احمد گاڑی چلاتے ہوئے واپس سسرال پہنچے، جہاں گاڑی دیوار سے جا ٹکرائی۔ اہلِ خانہ کے مطابق شور سن کر لوگ باہر نکلے مگر اس وقت تک پچھلی نشست پر بیٹھی ننھی ہانیہ دم توڑ چکی تھی۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ہانیہ کو لگنے والی پانچ گولیاں مبینہ طور پر کلاشنکوف سے چلائی گئی تھیں۔

اس واقعے نے نہ صرف پاکستان بلکہ آسٹریلیا میں بھی شدید غم و غصے اور تشویش کی لہر دوڑا دی۔ ہانیہ احمد آسٹریلوی نژاد پاکستانی تھیں اور اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیاں گزارنے پاکستان آئی تھیں۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ کینبرا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعے کا مکمل اور غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ خاندان اور عوام کے سامنے تمام حقائق آ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا توقع کرتا ہے کہ تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں گی۔

پرتھ میں ہانیہ کے اسکول آسٹریلین اسلامک کالج کے پرنسپل عبداللہ خان نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ہانیہ ایک خوش مزاج، ملنسار اور انتہائی بااخلاق بچی تھی۔ ان کے مطابق ہانیہ کی موت کی خبر پوری اسکول کمیونٹی کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول انتظامیہ طلبہ اور عملے کو نفسیاتی و مشاورتی معاونت فراہم کر رہی ہے جبکہ ہانیہ کے کلاس فیلوز شدید ذہنی دباؤ اور صدمے کا شکار ہیں۔

واقعے کے بعد ابتدائی ایف آئی آر میں فائرنگ کرنے والے اہلکار کا نام شامل نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھے۔ تاہم بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئیں، متعلقہ اہلکار کو معطل کر کے گرفتار کیا گیا اور اس کی سرکاری رائفل قبضے میں لے لی گئی۔

چکوال کی مقامی عدالت میں پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا بیان قلمبند کر لیا گیا ہے، سرکاری گن برآمد کر لی گئی ہے جبکہ گاڑی اور جائے وقوعہ سے ملنے والے گولیوں کے خول فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہ ہونے پر ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کے بعد اعتراف کیا کہ یہ سی سی ڈی اہلکار کی غلطی تھی۔ ان کے مطابق ڈاکو گاڑی کے پیچھے چھپ کر فائرنگ کر رہے تھے اور بعد میں ایک گلی کے راستے فرار ہو گئے، تاہم اہلکار کو ان کے فرار ہونے کا علم نہ ہو سکا اور وہ غلط اندازے کے تحت گاڑی پر فائرنگ کرتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ سی سی ڈی اس معاملے میں مکمل غیر جانبدار رہے گا اور اپنے اہلکار کو بچانے کی کوئی کوشش نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک اہلکار کی سنگین غلطی کو پورے ادارے کی کارکردگی پر محمول نہیں کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب چکوال پولیس کا دعویٰ ہے کہ ڈکیتی میں ملوث دونوں ملزمان بعد ازاں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس نے زخمی والد عدیل احمد کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ چند روز میں حتمی تحقیقاتی رپورٹ سی سی ڈی کے سربراہ کو پیش کر دی جائے گی۔

تاہم اس افسوسناک واقعے کے بعد آج بھی ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر ڈاکو موقع سے فرار ہو چکے تھے تو خاندان کی گاڑی پر ہونے والی فائرنگ کس بنیاد پر کی گئی؟ اور کیا ایک معصوم بچی کی جان غلط اندازے کی بھینٹ چڑھ گئی؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب متاثرہ خاندان، آسٹریلوی حکومت اور عوام اب بھی منتظر ہیں۔