گوجرانوالہ میں عوامی کمیٹیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں واضح فرق ہے، کیونکہ باقی جماعتیں دھوکہ اور فریب کی سیاست کرتی ہیں، جب کہ جماعت اسلامی اصولی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی جھوٹ، گالی اور گولی کی سیاست نہیں کرتی بلکہ جمہوری انداز میں عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ ملک میں مزدور، طلبہ اور تنخواہ دار طبقہ اربوں روپے ٹیکس دیتا ہے، مگر اس کے باوجود حکمران طبقہ عیاشیوں میں مصروف ہے۔

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزرا اور بیوروکریسی لگژری گاڑیوں میں گھومتی ہے، جب کہ غریب عوام پر  پیٹرول بم  گرایا جاتا ہے۔  پٹرول کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر نمایاں ضرور ہوا ہے، مگر حکمران عوامی مسائل سے بے خبر ہیں۔ حکومت ایک طرف پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا دعویٰ کرتی ہے، جب کہ دوسری طرف بھاری لیوی بھی وصول کی جا رہی ہے۔

زراعت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کی 70 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے مگر کسان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے گندم کی قیمت 3900 روپے مقرر کی مگر بعد میں اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی، جس کے باعث کسانوں کو 2100 روپے فی من گندم فروخت کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ کھاد، یوریا اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، جس نے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے گریز کر رہی ہیں، جو جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حکومتی اشتہارات چلائے جا رہے ہیں اور بنیادی صحت مراکز اور اسکولوں کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ ملک میں انصاف کا نظام کمزور ہے اور عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں۔