ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان میں دو ہفتوں کے قیام کے بعد جانے سے قبل حکام کے ساتھ اقتصادی و مالیاتی پالیسیوں کے مسودے کا اشتراک کیا تھا۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا تھا تاہم پالیسی مسودے کے دو حصوں میں مزید ایڈجسٹمنٹس کی ضرورت باقی تھی۔

حکام کے مطابق ترسیلات زر کے تازہ اعداد و شمار نے پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک فی الحال اپنی محتاط مالیاتی پالیسی برقرار رکھے گا کیونکہ مہنگائی دوبارہ بڑھ رہی ہے جبکہ سیلابی نقصانات کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔

آئی ایم ایف مشن نے پاور ڈویژن کی کارکردگی کو سراہا، خاص طور پر سیکریٹری ڈاکٹر فخرالام عرفان کی قیادت میں کارکردگی کے تمام اشاریوں کو بہتر بنانے پر، تاہم ادارے نے خبردار کیا کہ پائیداری کے لیے بروقت اصلاحی اقدامات اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹس ضروری ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق حکومت کو وعدہ شدہ سبسڈیز کی بروقت فراہمی اور سیلاب زدہ اضلاع میں زیر التوا بلوں کی ادائیگی یقینی بنانا ہو گی۔ صوبوں کو بھی سیلابی نقصانات کے ایڈجسٹمنٹس کے ساتھ اپنے مالی اہداف پورے کرنے ہوں گے، جبکہ ترقیاتی فنڈز کے اجراء میں سختی برقرار رکھی جائے گی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اپنے محصولات کے اہداف میں ممکنہ کمی کے باوجود آئندہ اقدامات یکم جنوری 2026 سے نافذ کرنے کی تیاری میں ہے تاکہ کسی بھی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

یہ تمام امور متوقع طور پر آئندہ ہفتے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران حتمی شکل اختیار کریں گے، جہاں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خزانہ کریں گے، اور ان کے ہمراہ گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر بھی ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عوامی قرضوں سے متعلق اعداد و شمار، بشمول شرح سود، سکوک اور میچورٹی شیڈول، محفوظ حدود میں ہیں۔

آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ 37 ماہ کے توسیعی فنڈ پروگرام (ای ایف ایف) کے دوسرے اور 28 ماہ کے موسمیاتی پالیسی پروگرام (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے پر معاہدے کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

پاکستان کو امید ہے کہ اگلے ماہ دونوں پروگراموں کے تحت تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی قسط موصول ہو گی، بشرطیکہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری حاصل ہو جائے۔

آئی ایم ایف ٹیم نے 24 ستمبر سے 8 اکتوبر تک کراچی اور اسلام آباد میں مذاکرات کیے اور پروگرام کے نفاذ کو مجموعی طور پر اطمینان بخش قرار دیا۔ ادارے نے عوامی مالیات کو بہتر بنانے، مہنگائی پر قابو پانے، توانائی اصلاحات، اور حکومتی کارکردگی میں شفافیت لانے کے اقدامات کی تعریف کی۔

بیان میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اور پاکستانی حکام زیر التواء معاملات کو حل کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں گے، جبکہ ٹیم نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔