وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ مکالمے اور بات چیت کو ترجیح دی ہے، سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اور حکومت بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو اپوزیشن کی جانب سے جواب کا انتظار ہے، اب فیصلہ اپوزیشن نے کرنا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے۔

شہباز شریف نے ملک کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مشکل معاشی حالات میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ ان کے مطابق عوام کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر کمی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وزارت پیٹرولیم اور متعلقہ ٹیم کی کاوشوں کو سراہا، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت نے عوام پر اس کا مکمل بوجھ منتقل نہ کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے مشکل معاشی حالات میں 128 ارب روپے مختص کیے، جس کے لیے وفاقی حکومت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں کٹوتی کی۔

وزیراعظم کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات عام آدمی تک کم سے کم منتقل ہوں اور عوام کو موجودہ حالات میں ممکنہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

شہباز شریف نے خلیج کی موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری صورتحال کے باعث تیل اور توانائی کی سپلائی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ کئی ممالک میں ریفائنریز اور گیس پلانٹس متاثر ہوئے ہیں، جس کے اثرات عالمی توانائی کی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں

انہوں نے کہا کہ پاکستان توانائی کی درآمدات پر انحصار کرنے والا ملک ہے، اس لیے عالمی سطح پر پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات پاکستان کی معیشت اور توانائی کے شعبے پر بھی مرتب ہوتے ہیں

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح مشکل معاشی حالات میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے اور اس مقصد کے لیے وفاق اور صوبے مل کر اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کی صورتحال میں بہتری آنے سے پاکستان کی معیشت پر دباؤ کم ہوگا اور معاشی استحکام مزید مضبوط ہوگا۔

وزیراعظم نے معاشی سرگرمیوں اور برآمدات کے حوالے سے بھی گفتگو کی، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ان کی ٹیم نے ریٹیلرز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ شعبوں کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے تاکہ شفافیت بڑھے، کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا ہو اور معیشت کو دستاویزی بنانے میں مدد ملے۔

وزیراعظم نے جولائی میں آئی ٹی برآمدات میں 18 فیصد اضافے کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ حکومت آئی ٹی کے شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے اقدامات کررہی ہے

انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا، برآمدات بڑھانا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کے ارکان پر زور دیا کہ عوام کو ریلیف دینے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کریں۔

آخر میں وزیراعظم نے ایک بار پھر اپوزیشن سے مذاکرات کے حوالے سے حکومت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے اور سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتی ہے، تاہم اب اپوزیشن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ حکومت کی پیشکش کا کیا جواب دیتی ہے۔