ذرائع  کے مطابق یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ہونے والے ایک غیر معمولی، اہم اور اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیاہے۔

اجلاس میں حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بیرونِ ملک موجود دہشت گرد رہنماؤں کے مقامی سہولت کاروں سے روابط، کال ریکارڈنگز، مالی معاونت اور دیگر شواہد مکمل طور پر دستاویزی شکل میں حکومت کے پاس موجود ہیں۔

اس موقع پر فیصلہ کیا گیا کہ کالعدم بی ایل اے، بی آر اے، بی ایل ایف، یو بی اے، بی آر جی اور لشکر بلوچستان کے سربراہان اور کمانڈرز کے خلاف درج مقدمات کی پراسیکیوشن کو مزید تیز کیا جائے، جب کہ تمام شواہد عالمی معیار کے مطابق ریکارڈ کا حصہ بنائے جائیں تاکہ انہیں عالمی عدالتوں میں مؤثر انداز میں پیش کیا جاسکے۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اجلاس کو ہدایت کی کہ صوبائی حکومت وفاقی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ کے ساتھ مکمل رابطے میں رہ کر انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹسز کے اجرا میں تیزی لائے، تاکہ دہشت گرد دنیا کے کسی بھی ملک میں قانون کی گرفت سے بچ نہ سکیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی اب پروونشل ایکشن پلان کی رہنما اصولوں کے تحت مقامی سہولت کاروں سے لے کر بیرونِ ملک بیٹھے سربراہان تک انتہائی بھرپور، جامع اور فیصلہ کن انداز میں کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ نے محکمہ داخلہ بلوچستان کو ہدایت کی کہ ایکشن پلان کے تحت بنائے گئے خصوصی سیل کو مزید فعال کیا جائے اور تمام حساس کیسز کی تحقیقات کے عمل میں تیزی لائی جائے۔ اجلاس میں بیرونِ ملک دہشت گرد کمانڈرز اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے خلاف فوری، سخت اور بھرپور کریک ڈاؤن کی منظوری بھی دی گئی۔

بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی فنڈنگ، روابط، تنظیمی ڈھانچے اور بین الاقوامی سرگرمیوں کے مستند شواہد حکومت کے پاس موجود ہیں، جنہیں اب بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین پر خون بہانے والے کسی بھی دہشت گرد کو دنیا کے کسی کونے میں چھپنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اندرون و بیرون ملک دہشت گردی میں ملوث ہر کردار کے خلاف مؤثر، سخت اور غیر معمولی کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیاسی لبادہ اوڑھے دہشت گرد تنظیموں کے بیرونِ ملک موجود سربراہان اور کمانڈرز کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لانا ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

 انہوں نے ہدایت کی کہ انسداد دہشت گردی کے نئے قوانین کے تحت کارروائیاں تیز کی جائیں اور تمام شواہد بین الاقوامی قانونی تقاضوں کے مطابق مرتب کر کے متعلقہ فورمز پر پیش کیے جائیں۔

مزید برآں، وزیر اعلیٰ نے یہ بھی حکم دیا کہ تمام حساس مواد اور تیار شدہ ریکارڈ کو وفاقی حکومت کے ذریعے عالمی اداروں، عدالتوں اور دیگر متعلقہ فورمز پر پیش کیا جائے تاکہ عالمی سطح پر بھی دہشت گرد تنظیموں کی قیادت کا محاسبہ یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے مکمل خاتمے کا مرحلہ اب فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے پس پردہ غیر ملکی سرپرستوں کے عزائم بے نقاب ہوچکے ہیں اور بلوچستان اب مزید کسی بیرونی ایجنڈے کا شکار نہیں ہوگا۔

وزیر اعلیٰ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ریاست پاکستان اور بلوچستان دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر سختی سے عمل کیا جائے گا اور آخری سہولت کار تک پیچھا جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے امن، عوام کی حفاظت اور ریاستی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات اور اعلیٰ سکیورٹی حکام نے شرکت کی۔