پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں ایک خاص طبقے کو مراعات حاصل ہیں جبکہ عام آدمی کے لیے کاروبار کرنا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ طلبہ اور مزدوروں سے ٹیکس لیا جاتا ہے لیکن بڑے جاگیرداروں اور مراعات یافتہ طبقے کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسران اور وزرا بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، انہیں 1300 سی سی کی گاڑیوں میں سفر کرنے میں کیا مسئلہ ہے؟ حکومت اپنی غیر ضروری مراعات اور اخراجات کم کرے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی سفری سہولیات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میٹرو بس بنا کر حکمران سمجھتے ہیں کہ بہت بڑا کارنامہ انجام دے دیا، جبکہ دنیا کے دیگر ممالک میں زیر زمین ٹرینیں چل رہی ہیں۔ ان کے بقول حکومت چند نمائشی اقدامات کرکے شوخیاں مارتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں ڈھائی کروڑ موٹرسائیکلیں ہیں لیکن حکمران موٹرسائیکل سواروں پر بوجھ ڈال رہے ہیں اور بڑے طبقے کو چھوڑ دیا گیا ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں مربع اراضی رکھنے والے مالکان سے بھی مناسب ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا جبکہ چھوٹے کسانوں پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا نہ ہونے کے باوجود کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں رقم عوام سے وصول کی جا رہی ہے۔ حکومتی پالیسیوں نے صنعتیں تباہ کردی ہیں اور غریب مشکلات کا شکار ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام ہونا ہے، لیکن انتظامیہ نے لیاقت باغ کو تالے لگا دیے ہیں اور اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کے مطابق کارکن تالے توڑ کر اندر جانے کے لیے تیار تھے تاہم جماعت اسلامی نے انہیں روک دیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے جلسے کی اجازت نہ دی تو اسلام آباد اور راولپنڈی میں احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سڑکیں بند کرنے کی نوبت آئی تو اس کی ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پر ہوگی۔