ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں بنیادی ڈھانچے کے متعدد منصوبوں کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر بات چیت اور مفاہمت کی یادداشت کی بنیاد پر آگے بڑھا جائے تو مسائل حل کیے جاسکتے ہیں اور ایران کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مضبوط جواب دیا جائے گا۔ ایران اپنے دفاع کے لیے پوری قوت کے ساتھ کھڑا رہے گا اور کسی بھی طاقت کے لیے ایسی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ممکن نہیں جو اپنے دفاع کے پختہ عزم کے ساتھ متحد ہو۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران دھمکیوں اور دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا اور حکومت، عوام اور فوجی قیادت ملک کے دفاع کے لیے متحد ہیں۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں انتشار پیدا کرنے سے گریز کریں، کیونکہ امن اور استحکام ایران، خطے اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔
ایرانی صدر نے اسرائیل پر بھی مسلم ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کا اتحاد ان کوششوں کو ناکام بنا سکتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر دنیا میں امن اور استحکام قائم کرنا ہے تو اس کا آغاز خطے کے اندر سے ہی ہونا چاہیے۔
ایرانی صدر نے موسم سرما کے دوران صنعتی پیداوار کا تسلسل بھی حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کو گیس، بجلی اور پانی کی فراہمی میں تعطل نہیں آنا چاہیے، جب کہ کسی قسم کی پابندی ناگزیر ہوئی تو اس کا بوجھ پہلے سرکاری دفاتر اور سرکاری عمارتوں پر ڈالا جائے گا، عوام پر نہیں۔
مزید پڑھیں: نئی امریکی پابندیاں ریاستی و معاشی دہشتگردی، اقوام متحدہ انہیں فوری مسترد کرے:ایران
واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے دوران پاکستان اور قطر کی ثالثی سے جون میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس کا مقصد جنگ بندی اور وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔
تہران کا مؤقف ہے کہ مزید پیش رفت کے لیے واشنگٹن کو مفاہمتی یادداشت میں کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔







