ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم کی موجودہ شقوں میں اضافے کی تجویز سامنے آئی ہے اور اس حوالے سے قانونی و انتظامی اقدامات پر غور جاری ہے۔

یاد رہے کہ 10 نومبر کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق رپورٹ سینیٹ میں پیش کی تھی، سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں منعقد ہوا، اجلاس کے دوران سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کی جس میں 27ویں آئینی ترمیمی بل شامل ہے۔

اس موقع پر سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ کمیٹی نے مجوزہ آئینی عدالت کے قیام سے متعلق ترامیم کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ کمیٹی نے آئینی عدالت کے قیام کو متفقہ طور پر منظور کیا ہے تاہم کئی اہم ترامیم بھی تجویز کی ہیں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ’آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی اور ہائی کورٹ کے جج کی اہلیت 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے، کمیٹی نے ایک ٹیکنوکریٹ کو بھی عدالت کا حصہ بنانے کی سفارش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے ازخود نوٹس (سو موٹو) اختیار برقرار رکھا ہے، تاہم اس اختیار کو درخواست سے مشروط کیا گیا ہے۔ آئینی عدالت تبھی ازخود نوٹس لے گی جب اس کے لیے باضابطہ درخواست دی جائے گی۔

فاروق ایچ نائیک نے ججز کے تبادلے سے متعلق بتایا کہ تبادلے کا عمل اب جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہوگا، اگر کوئی جج تبادلے سے انکار کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس فائل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر کو تاحیات استثنیٰ دینے کی شق میں بھی ترمیم کی گئی ہے، اگر وہ پبلک آفس ہولڈر ہوں تو استثنیٰ ختم ہو جائے گا۔

سربراہ کمیٹی نے کہا کہ اسپیکر جوڈیشل کمیشن کے لیے رکن منتخب کریں گے جو عورت، غیر مسلم یا ٹیکنوکریٹ ہو سکتا ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی تجویز دی کہ اگر کسی کیس کا فیصلہ ایک سال کے اندر نہ ہو تو اسٹے آرڈر خود بخود ختم ہو جائے گا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر صحافیوں کی جانب سےجب  ان  سے سوال کیا گیا  کہ کیا سینیٹ میں نمبر پورے ہیں؟ تو اس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تھا کہ ان شاء اللہ ہیں۔