اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جمعے کو اپنی تحریک کا آغاز کریں گے، پرامن احتجاج کریں گے اور ایک پتھر بھی نہیں ماریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اتحاد تمام غیرملکی سفارتخانوں سے رابطہ کرے گا اور ان سے کہے گا کہ اس حکومت سے جو بھی معاہدے کیے گئے ہیں، وہ منسوخ کر دیے جائیں۔

محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے مطابق ملک کی 45 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ اگر آج پارلیمانی اجلاس ملتوی کر دیا جاتا تو آسمان نہیں گرتا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کچھ طاقتور ممالک پاکستان کو افراتفری اور جنگ کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں، لیکن ہمیں جنگ کا راستہ روکنا ہے اور ملک میں آئین کی بالادستی یقینی بنانی ہے۔

اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے اعلان کیا کہ پاکستان کا آئین بالادست ہو گا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہو گی اور صوبوں کی معدنیات پر پہلا حق اسی صوبے کا تسلیم کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن مذاکرات اسی بنیاد پر ہوں گے کہ ہمارا مینڈیٹ واپس کیا جائے۔ ہم حکومت کا جینا حرام کر دیں گے اور عدلیہ کے جج صاحبان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ایک قلم سے اس غیرآئینی عمل کو ختم کر سکتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے عدلیہ کے اختیارات محدود کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ آئینی ترمیم کے ذریعے غیر مؤثر کر دیا گیا، مگر ہم اس منصب کو بحال کریں گے۔ عدلیہ کی اصلاح ضروری ہے، لیکن ججوں کے ساتھ جو رویہ اپنایا گیا وہ ناقابلِ قبول ہے۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر بتایا گیا تھا کہ ترمیمی بل کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات میں زبردست کٹاؤ کیا گیا ہے، جو آئین کی روح کے منافی ہے۔