اپنے بیان میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد اور عوام کو اپنے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کا اہم ذریعہ ہے، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے ایسا طرزِ حکمرانی برقرار رکھنا چاہتی ہیں جس میں عوامی نمائندوں کو محدود اختیارات حاصل ہوں، شہریوں کو بااختیار بنانے کے لیے مقامی حکومتوں کا مضبوط اور مؤثر نظام ضروری ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں نے اپنے اپنے ادوار میں مقامی حکومتوں کے فرسودہ نظام کو برقرار رکھا، بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنانے کے بجائے اختیارات کو مرکزی اور صوبائی حکومتوں تک محدود رکھنے سے شہری مسائل حل کرنے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کراچی کی سیاسی صورتِ حال پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی کو بلاول بھٹو زرداری کی خواہش کے مطابق جیالا میئر لانے کے لیے دھاندلی کا راستہ اختیار کرنا پڑا، پیپلز پارٹی کے اس غیر جمہوری طرزِ عمل کے اثرات کراچی کے عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ یہ الزامات لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں عائد کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کے لیے جماعت اسلامی ایک اہم سیاسی انتخاب ہے اور حکمرانوں کو عوامی جذبات اور شہریوں کے جمہوری حقِ انتخاب کا احترام کرنا چاہیے، حکمران کب تک کراچی کے عوام کی خواہشات کو نظرانداز کرتے رہیں گے؟
لیاقت بلوچ نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے شفاف اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات دیے جائیں اور عوام کو اپنے علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بااختیار نمائندے منتخب کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔







