لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے جلسے، احتجاج اور دستخطی مہم بھی چلائی گئی، جبکہ حکومتی وزرا نے ایک مرتبہ پھر جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی سے رابطہ کیا ہے، جماعت اسلامی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم محض ملاقاتوں کے بجائے عوام کو عملی ریلیف فراہم کرنا ضروری ہے
امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ان کا بنیادی مطالبہ ہے اور اس معاملے پر جماعت اسلامی اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی، حکومت کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں جماعت اسلامی نے اپنے دلائل پیش کیے ہیں لیکن وزرا ان اعتراضات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے ہیں، عوام پہلے ہی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس لیے انہیں مزید مشکلات میں ڈالنے کے بجائے ریلیف فراہم کیا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں اور احتجاج کے نتیجے میں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو کچھ ریلیف دیا، تاہم ان کے نزدیک یہ اقدامات ناکافی ہیں، پٹرولیم لیوی کا خاتمہ کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں، لیکن حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا حوالہ دے کر اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے تیل صاف کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع اور مارجنز پر بھی سوالات اٹھائے، اٹک ریفائنری کے منافع میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ سینرجی ریفائنری کو مؤثر انداز میں چلانے سے بھی قومی معیشت کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجنز کا جائزہ لے کر انہیں کم کیا جائے تاکہ عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف مل سکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام کو مہنگائی کا سامنا ہے، جبکہ بعض کاروباری شعبوں میں منافع بڑھنے کے باوجود عام شہریوں کی مشکلات کم نہیں ہو رہیں۔ انہوں نے بینکوں، آٹا اور چینی کے کاروبار، ریفائنریز اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کے حوالے سے بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بااثر مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس صورتِ حال کا بوجھ عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
سود کے معاملے پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کو شرحِ سود میں کمی لانی چاہیے اور معیشت کو سودی نظام سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں 2027 تک سود کے خاتمے سے متعلق ہدف موجود ہے، لیکن ان کے مطابق حکومت نے پالیسی ریٹ بڑھا کر 11.5 فیصد کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت مقررہ مدت میں سود کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے تو اس حوالے سے واضح اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے؟ ملکی معیشت پر بینکوں کے اثر و رسوخ اور حکومتی قرضوں پر سود کی ادائیگی بھی اہم مسائل ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی نجکاری پالیسی پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پہلے سرکاری اداروں کو کمزور کیا جاتا ہے اور پھر انہیں فروخت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسیوں کا محور چند افراد کی دولت میں اضافہ نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کو مہنگائی، قرضوں اور معاشی دباؤ سے نجات دلانا ہونا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس ملاقات کے نتیجے میں عوام کو حقیقی ریلیف ملنا چاہیے، اگر عوام کو مطلوبہ ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی اپنی احتجاجی سرگرمیوں میں تیزی لائے گی اور آئندہ فیصلے سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے کیے جائیں گے۔
دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان نے فلسطین کی صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف اسرائیلی مظالم جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کو قبضے اور تشدد سے نجات دلانے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔







