تفصیلات کے مطابق نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نئی قیمتوں کا اعلان کیا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ خطے میں جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور وزیر اعظم اس صورتحال پر شدید تشویش رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نے آج خود ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں موجودہ حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا جائے، اس لیے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر اعظم اور عسکری قیادت بھی مختلف ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پانچ روز سے صورتحال کا روزانہ جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پیٹرول 55 روپے مہنگا ہوگیا!!! pic.twitter.com/6pPIYSMQdx
— HUM News (@humnewspakistan) March 6, 2026
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ ملک اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور پڑوس میں شروع ہونے والی صورتحال نے پورے خطے کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے پیشگی اقدامات کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر بڑھا لیے تھے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ صورتحال کو دانشمندی سے سنبھالا جائے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے مشکل فیصلہ کرتے ہوئے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے اسی تیزی کے ساتھ قیمتوں میں کمی بھی کی جائے گی اور حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لے گی۔
حکومت کے اعلان کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی نئی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔






