لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں بجٹ کی آوازیں تو آ رہی ہیں لیکن بجٹ تو ملک میں روزانہ آتا ہے، جب کہ ہر جمعہ کو پیٹرول کی قیمتوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے سہارے ٹیکس وصول کر رہی ہے اور عوام پر مسلسل مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں کم از کم تین سال کے لیے فکس کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں اب تک عوام سے 8 ہزار 66 ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں، جب کہ یہ نظام 2001 سے جاری ہے اور تمام حکومتیں اس میں شریک رہی ہیں۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ اس وقت عوام سے 115 روپے فی لیٹر تک لیوی وصول کی جا رہی ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ ٹیکس ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ تنخواہ دار طبقے نے انکم ٹیکس کی مد میں 660 ارب روپے دیے ہیں، پھر بھی ان کی تنخواہوں سے مزید کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا کہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ آمدن والوں کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائے، کیونکہ مزید ٹیکس لگانا معیشت اور عوام دونوں کے لیے تباہ کن ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومتیں بھی عوامی وسائل پر  ڈاکا  ڈال رہی ہیں اور سرکاری اسکولوں کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ پیٹرولیم لیوی ایک ایسا ٹیکس ہے جو ٹیکس کے زمرے میں ہی نہیں آتا، پھر بھی عوام سے وصول کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر لیوی ختم نہ کی تو جماعت اسلامی ہڑتال اور پہیہ جام کے حوالے سے مشاورت کرے گی۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ملک میں عوام کے پاس بچوں کی فیسیں ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں، جب کہ مہنگائی اور ٹیکسوں کے ذریعے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپنی ناکامی اور کرپشن چھپانے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے، جب کہ عوام صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے گلگت بلتستان اور عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں یہ چل رہا ہے کہ کراچی جیسا بنے گا یا پھر لاہور جیسا، جب کہ اسرائیل آج بھی بےگناہ بچوں اور معصوم شہریوں کو شہید کررہا ہے۔