حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت شہری اب پاسپورٹ دفاتر میں نقد رقم جمع نہیں کرا سکیں گے، جبکہ تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل ذرائع سے کی جائیں گی۔

 حکومت کی جانب سے یہ اقدام سرکاری اداروں میں شفافیت بڑھانے، کرپشن کے خاتمے اور عوام کو تیز رفتار سہولیات فراہم کرنے کیلئے متعارف کرایا جا رہا ہے۔

نئے طریقہ کار کے تحت شہری موبائل بینکنگ ایپس، آن لائن بینک ٹرانسفر، اے ٹی ایم سروسز اور مختلف ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے پاسپورٹ فیس ادا کر سکیں گے، جبکہ ادائیگی کے بعد موصول ہونے والی ڈیجیٹل رسید کو درخواست کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔

 اس فیصلے سے پاسپورٹ دفاتر میں لمبی قطاروں اور نقد رقم کے لین دین سے جڑے مسائل میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ عوام کو زیادہ محفوظ اور آسان ادائیگی کا نظام میسر ہوگا۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ حکومت سرکاری خدمات کو مرحلہ وار ڈیجیٹلائز کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے اور پاسپورٹ سسٹم میں کی جانے والی یہ تبدیلی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

ذرائع کے مطابق نئے نظام سے نہ صرف کام کی رفتار میں بہتری آئے گی بلکہ درمیانی افراد اور غیر قانونی وصولیوں کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔

حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ کیش لیس نظام متعارف ہونے کے بعد پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں شفافیت بڑھے گی اور شہریوں کو زیادہ مؤثر اور جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔

دوسری جانب عوامی حلقوں کی جانب سے بھی اس فیصلے کو جدید دور کی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے،سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے معیشت کو دستاویزی بنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔