حکومت نے کہا ہے کہ نئی ہدایات صرف ان مسافروں پر لاگو ہوں گی جن کا نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان ختم، منسوخ یا کسی وجہ سے غیر مؤثر ہو

حکومتی ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی خبریں کہ تمام برطانوی پاسپورٹ ہولڈرز کو نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان کی بنیاد پر پاکستان میں داخلے سے روک دیا جائے گا، غلط اور گمراہ کن ہیں۔

یہ وضاحت ایک ایئرلائن کی ہدایت کے بعد سامنے آئی، جسے وسیع پیمانے پر اس طرح سمجھا گیا کہ 17 جولائی سے تمام برطانوی پاکستانیوں کو صرف پاکستانی پاسپورٹ یا پاکستانی ویزا کے ذریعے ہی سفر کرنا ہوگا۔

ترجمان نے کہا کہ نئی ہدایات کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ برطانیہ، امریکا، یورپ اور دنیا بھر میں مقیم تمام اوورسیز پاکستانیوں پر یکساں طور پر لاگو ہونگی 

غیر ملکی پاسپورٹ کے ساتھ درست نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان رکھنے والے اوورسیز پاکستانی پہلے کی طرح بغیر ویزا پاکستان آ سکتے ہیں۔اگر کسی مسافر کا نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان ایکسپائر یا کسی وجہ سے غیر مؤثر ہو تو اس کو سفر سے پہلے پاکستانی ویزا حاصل کرنا ہوگا البتہ وہ درست پاکستانی پاسپورٹ پر بھی سفر کر سکتا ہے

ایئرلائنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسے مسافروں کو پرواز میں سوار نہ ہونے دیں جن کے پاس درست پاکستانی ویزا یا درست پاکستانی پاسپورٹ موجود نہ ہو اور ان کا نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان بھی کارآمد نہ ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان شرائط پر پورا نہ اترنے والے مسافروں کے لیے کوئی استثنا نہیں ہوگا

حکومتی ترجمان کے مطابق درست نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان رکھنے والے افراد پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی اور وہ پہلے کی طرح اپنے غیر ملکی پاسپورٹ پر بغیر ویزا پاکستان آ سکتے ہیں۔

یہ پالیسی برطانیہ کے دفتر خارجہ کی رہنمائی سے بھی مطابقت رکھتی ہے، جس کے مطابق درست نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان یا اسمارٹ نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان رکھنے والوں کو پاکستانی شہری تسلیم کیا جاتا ہے، وہ بغیر ویزا پاکستان داخل ہو سکتے ہیں اور غیر معینہ مدت تک قیام کر سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کوئی نئی سفری پالیسی متعارف کرانا نہیں بلکہ پہلے سے موجود امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے پاکستان آنے والی پروازیں چلانے والی ایئرلائنز کو ہدایت دی ہے کہ روانگی سے قبل مسافروں کے نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان کی مدت اور حیثیت کی تصدیق کریں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایکسپائر نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان رکھنے والے مسافروں کو بھی پرواز میں سوار ہونے کی اجازت مل جاتی تھی، مگر اب یہ عمل بند کر دیا گیا ہے۔

ایف آئی اے نے ملک بھر کے امیگریشن چیک پوسٹس کو بھی ہدایت دی ہے کہ ان قواعد پر یکساں عمل درآمد کیا جائے۔

حکام کے مطابق یہ اقدام دیگر سرکاری خدمات کے قواعد سے بھی ہم آہنگ ہے، جہاں ایکسپائر شناختی کارڈ یا نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان کی صورت میں بینکنگ، سم رجسٹریشن اور جائیداد کی خرید و فروخت جیسی سہولیات پہلے ہی معطل ہو جاتی ہیں۔

مزید پڑھیں: اسحاق ڈار 2 روزہ دورے پر چین روانہ، مصنوعی ذہانت کی عالمی تنظیم کے معاہدے پر دستخط کریں گے

ایئرلائنز کے اسٹیشن منیجرز کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ چیک اِن عملے کو نئے قواعد سے آگاہ کریں اور مسافروں کو سفر سے پہلے مناسب رہنمائی فراہم کریں۔

اگرچہ بہت سے لوگوں نے دستاویزات کی سخت جانچ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں اور مشنز میں نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستان  کی تجدیدکا عمل مزید تیز کیا جائے۔