صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ ملک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے اور اس وقت کاروباری برادری کے لئے غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا نقصان دہ ہوگا، اگر حکومت واقعی سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے واضح اور مفصل پالیسی کا اعلان ہونا ضروری ہے، تاکہ بزنس کمیونٹی اپنی منصوبہ بندی کر سکے اور معاشی نقصان سے بچا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لاہور چیمبر نے سمارٹ لاک ڈاؤن کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک جامع ریسرچ رپورٹ تیار کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف تیل اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں متاثر ہوں گی بلکہ ترسیل اور لاجسٹک کے مسائل بھی سامنے آئیں گے، تمام را میٹریل آئل بیسڈ ہیں، اس لیے کاروباری شعبے کو مکمل معلومات دی جائیں تاکہ ممکنہ مشکلات کا بروقت سامنا کیا جا سکے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بزنس کمیونٹی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا جائے،"ہم اس وقت ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فیصلے شفاف اور ہر شعبے کے لیے قابل عمل ہوں۔"
اسی دوران فہیم الرحمن سہگل نے آئی ایم ایف کے حالیہ معاہدے اور ملک کی فارن پالیسی کی تعریف بھی کی اور کہا کہ یہ اقدام خوش آئند ہے اور ملک کی معیشت کے استحکام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی امن کے لیے کوششوں کو سراہتے ہیں، لیکن معاشی اور تجارتی مسائل کے پیش نظر واضح رہنمائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کاروباری برادری کی رائے کو شامل کیے بغیر کسی بھی قسم کے لاک ڈاؤن کے اقدام سے ملک کی معیشت اور روزگار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
لاہور چیمبر کے مطابق، سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے مستقبل میں ممکنہ فیصلے عوام اور تجارتی برادری کے لیے بروقت آگاہی کے ساتھ کیے جائیں، تاکہ اقتصادی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور ملک کی معاشی صورتحال مزید کشیدہ نہ ہو۔







