سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے افغان طالبان پر سخت تنقید کی اور کہا کہ نیٹو افواج کے انخلا کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ افغانستان میں امن ہوگا اور طالبان افغان عوام کے مفادات اور خطے میں امن پر توجہ مرکوز کریں گے، مگر طالبان نے افغانستان کو ہندوستان کی کالونی بنا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا کے دہشت گردوں کو افغانستان میں اکٹھا کر لیا گیا ہے اور دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔ اپنی عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا اور خواتین کو وہ حقوق بھی نہیں دیے جا رہے جو اسلام انہیں دیتا ہے۔
نیٹو کی افواج کے انخلاء کے بعد یہ توقع کی جاتی تھی کہ افغانستان میں امن ھو گا اور طالبان افغانُ عوام کے مفادات اور علاقہ میں امن پہ توجہ مرکوز کریںُ گے۔مگر طالبان نے افغانستان کو ھندوستان کی کالونی بنا دیا۔ ساری دنیا کے دھشت گردوں کا افغانستان میں اکٹھا کر لیا اور دھشت گردی کو…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) February 26, 2026
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے براہِ راست اور دوست ممالک کے ذریعے حالات معمول پر رکھنے کی پوری کوشش کی اور بھرپور سفارت کاری کی، مگر طالبان ہندوستان کی پراکسی بن گئے۔
وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ آج جب پاکستان کو جارحیت کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو الحمدللہ ہماری افواج اس وقت فیصلہ کن جواب دے رہی ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان کا کردار مثبت رہا ہے۔
انہوں نے افغان طالبان کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے پچاس لاکھ افغانیوں کی پچاس سال سے مہمان نوازی کی ہے اور آج بھی ہماری سرزمین پر لاکھوں افغان روزگار کما رہے ہیں۔
انہوں نے سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اب ہماری تمہاری کھلی جنگ ہے، اب دما دم مست قلندر ہوگا۔ پاکستان کی فوج سمندر پار سے نہیں آئی ہوئی، ہم تمہارے ہمسائے ہیں اور تمہاری اوقات جانتے ہیں۔






