لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم پاکستان اور عالمی برادری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب اور ان کے بعد آنے والے بیان میں واضح تضاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے بیانات میں تضاد عوام کے سامنے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور پاکستان سمیت امت مسلمہ کبھی بھی اسے تسلیم نہیں کرے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا تھا اور ہم بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنا نہ صرف فلسطینی عوام کے ساتھ غداری ہے بلکہ مسلم دنیا کے مشترکہ موقف کی نفی بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکی صدر ڈنڈا اٹھا کر اپنی مرضی مسلط کر رہا ہے۔
انہوں نے نیتن یاہو کے ساتھ ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس کو عالمی عدالت انصاف کی توہین قرار دیا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکا مجرم کی پشت پناہی کر رہا ہے جبکہ عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا حالیہ اعلامیہ اسرائیل کی توسیع کا منصوبہ تو ہو سکتا ہے لیکن فلسطین کی آزادی یا بیت المقدس کی حیثیت کو بحال کرنے کا فارمولا ہرگز نہیں ہے۔ اگر یہ دونوں رہنما واقعی سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کے قیام کے منصوبے کو ختم کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ دو ریاستی حل اس وقت تک محض ایک "خواہش" ہے جب تک فلسطینی عوام اسے قبول نہ کریں۔ اسرائیل فلسطین کے وجود کو ماننے کو تیار نہیں اور فلسطینی کسی قیمت پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ ایسے میں دو ریاستی حل زبردستی تھوپا نہیں جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک فلسطینیوں کو خود فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جاتا، کوئی بھی عالمی منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ مذاکرات اور عالمی سفارتی کوششوں میں حماس کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ فلسطین کی عوامی نمائندگی کے بغیر کوئی حل دیرپا نہیں ہو سکتا۔ حماس اصل فریق ہے اور اس کو شامل کیے بغیر کبھی بھی مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا اس وقت فلسطین کے مسئلے پر متحد ہے اور سب کا مطالبہ یہی ہے کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ اگر کسی نے دو ریاستی حل تجویز کیا ہے تو وہ بھی اسی شرط پر قابل قبول ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنی پریس کانفرنس میں واضح پیغام دیا کہ امت مسلمہ کو اب مزید مصلحت پسندی کے بجائے ایک آواز میں کھڑا ہونا ہوگا تاکہ نہ صرف فلسطین بلکہ پورے عالم اسلام کے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔







