پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ اُس وقت ہوا جب ایس پی اسد زبیر اپنی ٹیم کے ہمراہ علاقے میں سیکیورٹی امور کی نگرانی کر رہے تھے۔ دہشت گردوں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا اور پولیس موبائل الٹ گئی۔
آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے تصدیق کی ہے کہ حملے کا ہدف ایس پی اسد زبیر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہید ایس پی اسد زبیر اور ان کے ساتھیوں نے اپنی جانیں ملک و قوم کے تحفظ کے لیے قربان کیں۔ ان کی بہادری قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جب کہ ریسکیو ٹیموں نے شہداء اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں۔






