پاکستان نیوی کی آبدوز پی این ایس ہنگور نے بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس کھکری کو نشانہ بنایا اور اسے سمندر برد کر دیا۔ اس حملے میں جہاز کے ساتھ اس کے درجنوں اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
دفاعی تاریخ دانوں کے مطابق یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع تھا جب کسی آبدوز نے جنگی کارروائی کے دوران دشمن کے ایک بڑے جنگی جہاز کو تباہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہنگور کا نام پاکستان نیوی کی تاریخ میں جرات، مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اب نصف صدی سے زائد عرصے بعد یہی نام ایک بار پھر پاکستان نیوی کے مستقبل سے جڑ رہا ہے۔
پہلی ہنگور کلاس آبدوز کراچی پہنچ گئی
پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی تعاون کے تحت پاکستان نیوی کے لیے مجموعی طور پر آٹھ جدید ہنگور کلاس آبدوزیں تیار کی جا رہی ہیں۔
پاکستان نیوی کے مطابق پہلی ہنگور کلاس آبدوز پاکستان پہنچ چکی ہے جبکہ منصوبے کے تحت چار آبدوزیں چین میں اور چار کراچی شپ یارڈ اینڈ انجیئرنگ ورکس میں تعمیر کی جا رہی ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی اہمیت صرف نئی آبدوزوں کے حصول تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے پاکستان کو جدید بحری ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ مہارت اور مقامی سطح پر آبدوز سازی کی صلاحیت بھی حاصل ہو رہی ہے۔
ہنگور کلاس آبدوزوں کی خاص بات کیا ہے؟
جدید ہنگور کلاس آبدوزوں کی سب سے نمایاں خصوصیت ان میں نصب ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن نظام ہے۔
روایتی ڈیزل الیکٹرک آبدوزوں کو اپنی بیٹریاں چارج کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً سطحِ آب کے قریب آنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں دشمن کے ریڈار اور نگرانی کے نظام ان کا سراغ لگا سکتے ہیں۔
تاہم اے آئی پی ٹیکنالوجی سے لیس آبدوزیں طویل عرصے تک پانی کے اندر رہنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے ان کی خفیہ نقل و حرکت اور جنگی مؤثریت میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جدید بحری جنگ میں یہی صلاحیت کسی بھی آبدوز کو زیادہ خطرناک اور مؤثر بناتی ہے۔
جدید نگرانی اور حملہ آور صلاحیت
ہنگور کلاس آبدوزوں میں جدید سونار، ریڈار، الیکٹرانک نگرانی کے نظام اور کم شور پیدا کرنے والی مشینری نصب کی گئی ہے۔
ان خصوصیات کے باعث یہ آبدوزیں نہ صرف خود کو دشمن کی نظروں سے بہتر انداز میں چھپا سکتی ہیں بلکہ سمندر میں موجود دیگر جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی سرگرمیوں پر بھی مؤثر نگرانی کر سکتی ہیں۔
مزید برآں یہ آبدوزیں ہیوی ویٹ ٹارپیڈوز اور اینٹی شپ کروز میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس کے باعث دشمن کے بحری بیڑے کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ تصور کی جاتی ہیں۔
پاکستان کو نئی آبدوزوں کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان نیوی کے موجودہ آبدوزی بیڑے کا ایک حصہ کئی دہائیوں سے خدمات انجام دے رہا ہے، جس کے باعث مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید پلیٹ فارمز کا حصول ناگزیر ہو گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ خطے میں بحری طاقت کے توازن، سمندری تجارتی راستوں کے تحفظ اور جدید جنگی تقاضوں کے پیش نظر پاکستان کے لیے اپنے آبدوزی بیڑے کو جدید بنانا ایک اہم ضرورت بن چکا تھا۔
ماضی کی یاد، مستقبل کی تیاری
پچپن برس قبل ہنگور نے ایک تاریخی بحری کارروائی کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی شناخت بنائی تھی۔
آج اسی نام سے منسوب نئی ہنگور کلاس آبدوزیں پاکستان نیوی کے بیڑے کا حصہ بن رہی ہیں۔ دفاعی حلقوں کے مطابق یہ آبدوزیں نہ صرف پاکستان کی بحری دفاعی صلاحیت میں اضافہ کریں گی بلکہ ملک کی سمندری حدود اور اہم بحری راستوں کی نگرانی میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔
یوں 1971 کی جنگ میں تاریخ رقم کرنے والی ہنگور کی میراث اب جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے، جہاں سمندر کی گہرائیوں میں خاموشی سے حرکت کرنے والی یہ آبدوزیں پاکستان کی بحری حکمت عملی کا اہم ستون سمجھی جا رہی ہیں۔







