دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کی دھمکی اور بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی امن، بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس بات پر بھی شدید تشویش ہے کہ بعض عناصر سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کے تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طاہر اندرابی نے یاد دلایا کہ گزشتہ ہفتے یمن سے مسلح گروہوں کے حملوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کے حملے خطے کے امن و استحکام کو مزید خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں وزیراعظم کا یہ مؤقف پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے اور پاکستان تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل دہراتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی سلسلے میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے حالیہ دنوں پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، دیگر اعلیٰ حکام اور چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقاتیں کیں۔ یہ دورہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان قریبی رابطوں اور علاقائی معاملات پر مشاورت کا مظہر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 18 جولائی کو کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح الصباح سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خطے کی صورتحال، کشیدگی میں کمی، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد پر تبادلہ خیال کیا۔

ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر منیلا میں مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، جنگ بندی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور خطے میں پائیدار امن کے قیام پر زور دیا گیا، جبکہ عمان نے خطے میں مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ آج کرغزستان پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس موقع پر وہ کرغزستان کے صدر سے ملاقات اور رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ اسحاق ڈار نے منیلا میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف، بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے حکام سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، توانائی، علاقائی روابط، ترقیاتی منصوبوں اور پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل اسحاق ڈار نے شنگھائی میں ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے قیام کی تقریب میں شرکت کی، جبکہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات میں سی پیک، دوطرفہ تجارت، علاقائی روابط اور پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری پر گفتگو کی گئی۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جو تقریباً دو دہائیوں بعد کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا۔ اس دوران دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، موسمیاتی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا، جبکہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ کینولا کی درآمد سے متعلق ایک اہم پروٹوکول پر بھی دستخط کیے گئے۔