اب پنجاب حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ اس صورتحال کو بدلنے جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت نے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام کے تحت تقریباً 9 کروڑ 43 لاکھ (94.3 ملین) شہریوں کی صحت اور ڈیموگرافک معلومات کو ڈیجیٹل شکل میں یکجا کرنے کا عمل تقریباً مکمل کر لیا ہے۔
حکومت کے مطابق پنجاب ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں ہر گھر کو ایک یونیک ڈیجیٹل شناخت دے کر اس کی ہیلتھ اور آبادی سے متعلق معلومات محفوظ کی جا رہی ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ منصوبہ اصل میں ہے کیا؟ کیا دنیا میں بھی ایسا ہوتا ہے؟ اس کے فوائد کیا ہیں؟ اور اس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی کیسے بدل سکتی ہے؟
ہیلتھ سنسس اور ڈیجیٹل ہیلتھ پروفائل کیا ہے؟
عام مردم شماری صرف یہ بتاتی ہے کہ کسی علاقے میں کتنے لوگ رہتے ہیں، ان کی عمر، تعلیم یا دیگر بنیادی معلومات کیا ہیں۔ اس کے برعکس ڈیجیٹل ہیلتھ سنسس ایک ایسا نظام ہے جس میں ہر گھر اور ہر فرد کی صحت سے متعلق معلومات بھی جمع کی جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر ذیابیطس، بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس یا دیگر بیماریوں کی موجودگی، حاملہ خواتین اور بچوں کی صحت، معذوری، غذائی قلت، پینے کے پانی اور صفائی کی صورتحال، معاشی حالات اور قریبی طبی سہولت تک رسائی وغیرہ شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ معلومات 14,300 کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز نے گھر گھر جا کر موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے جمع کیں، جب کہ ہر گھر کو ایک یونیک آئی ڈی بھی دی گئی تاکہ آئندہ اسی ریکارڈ کو اپ ڈیٹ کیا جا سکے۔ پنجاب شہریوں کی صحت اور ڈیموگرافی کی ڈیجیٹل میپنگ کرنے والا ملک کا پہلا صوبہ بن گیا
دنیا میں کن ممالک نے ایسا نظام بنایا؟
پنجاب کا ماڈل مکمل طور پر منفرد نہیں، لیکن پاکستان کے لیے ضرور نیا ہے۔ برطانیہ میں نیشنل ہیلتھ سروس کے ذریعے تقریباً ہر شہری کا الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ موجود ہے، جس سے علاج، ادویات اور بیماریوں کی نگرانی آسان ہوتی ہے۔
ایسٹونیا کو دنیا کے کامیاب ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں تقریباً تمام شہریوں کے طبی ریکارڈ ڈیجیٹل ہیں۔ ڈنمارک، فن لینڈ اور سویڈن بھی قومی سطح پر الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ استعمال کرتے ہیں، جس سے مریض کا ریکارڈ مختلف ہسپتالوں میں فوری دستیاب ہوتا ہے۔
انڈیا نے حالیہ برسوں میں آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن کے تحت ہر شہری کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ آئی ڈی متعارف کرانے کا آغاز کیا ہے۔ مگر یہاں فرق یہ ہے کہ پنجاب حکومت کا موجودہ منصوبہ صرف اسپتالوں کے ریکارڈ تک محدود نہیں بلکہ گھر گھر جا کر بنیادی صحت اور سماجی معلومات جمع کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
حکومت یہ منصوبہ کیوں لا رہی ہے؟
ماہرین صحت کے مطابق اگر حکومت کے پاس درست ڈیٹا نہ ہو تو وسائل کی منصفانہ تقسیم مشکل ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ضلع میں 30 ہزار شوگر کے مریض ہیں لیکن سرکاری ریکارڈ میں صرف 10 ہزار درج ہوں تو ادویات بھی کم بھیجی جائیں گی۔
اسی طرح اگر کسی علاقے میں حاملہ خواتین کی تعداد معلوم نہ ہو تو زچہ و بچہ پروگرام مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اندازوں کے بجائے مستند ڈیجیٹل معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنا ہے۔
عام شہری کو کیا فائدہ ہوگا؟
اگر منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ ہوتا ہے تو اس کے ممکنہ فوائد یہ ہو سکتے ہیں کہ مریضوں کا مستقل ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈ، دائمی بیماریوں جیسے شوگر، بلڈ پریشر اور ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی باقاعدہ نگرانی، ادویات کی گھر تک فراہمی میں آسانی، حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی بروقت دیکھ بھال اور بیماریوں کے پھیلاؤ کی جلد نشاندہی وغیرہ شامل ہیں۔
ان کے علاوہ ضرورت کے مطابق ڈاکٹر، ادویات اور طبی مراکز کی بہتر منصوبہ بندی اور شہریوں کو قریبی بنیادی مراکز صحت سے براہِ راست منسلک کرنا بھی اس کے فوائد میں شامل ہوسکتے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی بتایا ہے کہ ذیابیطس، بلڈ پریشر، ہیپاٹائٹس، کینسر اور غذائی قلت کے شکار افراد کا ڈیجیٹل فالو اپ کیا جائے گا جب کہ ادویات کی ہوم ڈیلیوری کے نظام کو بھی مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کلینک آن ویلز منصوبہ صحت کی سہولیات کو عوام کی دہلیز تک پہنچا رہا ہے۔ ایک ہزار سے زائد موبائل کلینکس کے ذریعے خواتین کو خاندانی منصوبہ بندی کی تمام سہولیات، قبل از زچگی (Prenatal) اور بعد از زچگی (Postnatal) طبی نگہداشت سمیت دیگر بنیادی طبی خدمات فراہم کی جا… pic.twitter.com/RBIbWtNXBD
— Rana Muhammad Chand Khan (@ranachandkh) July 3, 2026
اس منصوبے کے ساتھ اور کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں؟
اجلاس میں حکومت نے صرف ڈیجیٹل ڈیٹا پر ہی بات نہیں کی بلکہ کئی دیگر اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ دسمبر تک 16 اضلاع میں کارڈیک کیتھ لیبز فعال کرنے کا ہدف، جولائی کے آخر تک مزید اضلاع میں نئی کیتھ لیبز، مریم نواز صحت مند گھرانہ پروگرام کی تجویز، پولیو کی نگرانی، آبادی میں اضافے پر قابو پانے کی مہم اور بنیادی مراکز صحت کو ڈیجیٹل نظام سے جوڑنے کا منصوبہ۔
کیا کوئی خدشات بھی ہیں؟
ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹمز جہاں صحت کی منصوبہ بندی بہتر بناتے ہیں، وہیں ان کے ساتھ چند اہم سوالات بھی جڑے ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے منصوبوں کی کامیابی صرف ڈیٹا اکٹھا کرنے پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہوتی ہے کہ شہریوں کا ذاتی ڈیٹا کس حد تک محفوظ رکھا جاتا ہے، کون سے ادارے اس ڈیٹا تک رسائی رکھتے ہیں۔
سائبر حملوں سے حفاظت کے لیے کیا انتظامات کیے گئے ہیں، شہری اپنے ریکارڈ کی درستی یا اپ ڈیٹ کیسے کرا سکیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈیٹا کی حفاظت کے لیے جدید آفات سے بحالی کا مرکز قائم کی جا رہی ہے تاکہ معلومات محفوظ رہیں۔
کامیابی کا اصل معیار کیا ہوگا؟
پنجاب کا یہ منصوبہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل تبدیلی کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس کی کامیابی کا فیصلہ صرف اس بات سے نہیں ہوگا کہ کتنے کروڑ افراد کا ڈیٹا جمع ہوا، بلکہ اس سے ہوگا کہ آیا اس معلومات کی بنیاد پر واقعی مریضوں کو بروقت علاج، ادویات اور بہتر طبی سہولتیں ملتی ہیں یا نہیں۔
اگر یہ نظام مؤثر، محفوظ اور مسلسل اپ ڈیٹ ہوتا رہا تو یہ نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ڈیٹا محض سرکاری ریکارڈ تک محدود رہ گیا تو اس کے ممکنہ فوائد بھی محدود ہو جائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ یہ ڈیجیٹل نقشہ آنے والے برسوں میں پنجاب کے صحت کے نظام کو کس حد تک بدل پاتا ہے۔






