اب حکومت کا مؤقف ہے کہ مشکل فیصلوں کے نتیجے میں معیشت دوبارہ استحکام کی طرف آچکی ہے، مالیاتی خسارہ کم ہوا، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا اور ملک پائیدار ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آج معیشت نسبتاً مستحکم ہے تو عام پاکستانی کی مالی پریشانی ختم کیوں نہیں ہوئی؟ بانی پی ٹی آئی کے دور میں بلند شرحِ نمو کے باوجود مہنگائی عوام کے لیے مسئلہ تھی، جب کہ آج معاشی استحکام کے دعووں کے باوجود صارفین کا اعتماد مسلسل کم ہورہا ہے۔

عالمی بینک کے اعداد و شمار بھی دکھاتے ہیں کہ پاکستان کی معاشی نمو مختلف ادوار میں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ 2020 میں معیشت سکڑی، 2021 اور 2022 میں تیزی سے بڑھی، پھر 2023 میں دوبارہ سکڑاؤ آیا۔

پاکستان کی معیشت کے بارے میں حکومتی بیانیہ یہ ہے کہ ملک شدید معاشی بحران سے نکل کر استحکام کی جانب بڑھ چکا ہے، مالی خسارہ کم ہوا، زرمبادلہ کی صورتحال بہتر ہوئی، ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا اور اب معیشت کو پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن دوسری جانب عام صارف کی نظر سے دیکھا جائے تو تصویر اتنی حوصلہ افزا دکھائی نہیں دیتی۔

صارفین کا اعتماد کیوں گر رہا ہے؟

تازہ صارف اعتماد اشاریہ اسی تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈن اینڈ بریڈسٹریٹ پاکستان اور گیلپ پاکستان کے مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے سروے کے مطابق صارفین کا اعتماد گزشتہ سہ ماہی کے 86.4 فیصد سے 24.4 فیصد کم ہو کر 65.3 فیصد رہ گیا، جو حالیہ برسوں میں ایک ہی سائیکل کے دوران سب سے بڑی کمی قرار دی گئی ہے۔

موجودہ معاشی حالات کا اشاریہ 51.8 فیصد جب کہ مستقبل کے معاشی منظرنامے سے متعلق توقعات 78.7 فیصد رہیں۔

یہ سروے 1,592 افراد سے کیا گیا اور اس میں مہنگائی عوام کی سب سے بڑی پریشانی بن کر سامنے آئی۔ 89.3 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جب کہ 81 فیصد نے بے روزگاری کی صورتحال کو مزید خراب قرار دیا۔

تقریباً 40 فیصد افراد کو خدشہ ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں ان کے ذاتی مالی حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ 50 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں اعتماد کی کمی سب سے زیادہ 30.4 فیصد ریکارڈ ہوئی۔

گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال گیلانی کے مطابق 65.3 کا موجودہ اشاریہ پاکستان کو ’انتہائی مایوسی‘ کے زمرے میں لے جاتا ہے۔ مسئلہ صرف مستقبل کے بارے میں خدشات کا نہیں بلکہ موجودہ حالات کا بھی ہے، کیونکہ موجودہ جذبات کا اشاریہ 51.8 فیصد تک گر چکا ہے، یعنی لوگ آج بھی مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ڈن اینڈ بریڈسٹریٹ پاکستان کے چیف بزنس آفیسر زبیر قریشی نے بھی کہا کہ صارفین حقیقی دباؤ میں ہیں اور اعتماد خود بخود بحال نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے زمینی سطح پر واضح بہتری ضروری ہے۔

عام آدمی کو معاشی استحکام محسوس کیوں نہیں ہو رہا؟

تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر معیشت واقعی استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے تو عام آدمی کو اس استحکام کا احساس کیوں نہیں ہو رہا؟

اس کا ایک اہم جواب مہنگائی کی شرح اور قیمتوں کی سطح کے فرق میں چھپا ہے۔ مہنگائی کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اشیاء سستی ہوگئیں، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ قیمتیں پہلے کی نسبت کم رفتار سے بڑھ رہی ہیں۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق اگست 2026 میں سالانہ صارف قیمتوں کی مہنگائی 11.1 فیصد رہی، جب کہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 12.2 فیصد تھی۔ یعنی قیمتوں میں اضافہ اب بھی جاری ہے۔

آمدن اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق

یہ فرق اس وقت مزید اہم ہوجاتا ہے جب آمدن کی رفتار کو قیمتوں کے ساتھ دیکھا جائے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024-25 میں ملک میں اوسط ماہانہ اجرت تقریباً 39 ہزار 42 روپے تھی، جب کہ اوسط ماہانہ گھریلو آمدن 82 ہزار 179 روپے اور اوسط گھریلو اخراجات 79 ہزار 150 روپے تھے۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بہت سے گھرانوں کے پاس مہینے کے اختتام پر بچت کی گنجائش پہلے ہی محدود ہے۔

معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی ایک ہی چیز نہیں

معاشی ماہرین بارہا اس بات کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ معاشی استحکام اور عام آدمی کی خوشحالی الگ مراحل ہیں۔ ماہر معیشت اور لاہور اسکول آف اکنامکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر وقار وادھو نے اپریل 2026 میں لکھا کہ پاکستان میں حقیقی آمدن جمود کا شکار رہی، مہنگائی نے قوتِ خرید کو متاثر کیا اور روزگار کی تخلیق آبادی میں اضافے کی رفتار کے ساتھ نہیں چل سکی۔

ان کا کہنا تھا کہ نتیجتاً معیشت ایک ایسے کم شرحِ نمو والے توازن میں پھنس سکتی ہے جہاں ملک بحران سے بچ تو جائے، لیکن عام لوگوں کے معیارِ زندگی میں خاطر خواہ بہتری نہ آئے۔

’ویلفیئر جی ڈی پی‘ کیا بتاتی ہے؟

اسی مسئلے کو ڈاکٹر ظفر مسعود نے ’ویلفیئر-جی ڈی پی‘ کے تصور کے ذریعے بیان کیا۔ ان کے مطابق ریاستی اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ پیداوار کتنی بڑھی، لیکن ایک عام گھرانے کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اس کی آمدن سے وہ کتنی اشیاء اور خدمات خرید سکتا ہے۔ پاکستان میں معاشی کارکردگی اور گھرانے کی قوتِ خرید کو ایک ہی پیمانے پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ بھی لازماً ہر شہری کی زندگی میں فوری بہتری نہیں لاتا۔ پاکستان کی 2025-26 کی مجموعی قومی پیداوار میں 3.70 فیصد اضافے کا سرکاری تخمینہ ہے، لیکن دوسری جانب 2024-25 کے لیے سرکاری معاشی سروے میں قومی غربت کی شرح 28.9 فیصد بتائی گئی ہے۔

حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ معاشی جھٹکوں، مہنگائی، موسمیاتی اور سیلابی اثرات اور معاشی ایڈجسٹمنٹ نے گھرانوں کی فلاح و بہبود پر دباؤ ڈالا ہے۔

مسئلہ روزگار

یہاں ایک اور بنیادی مسئلہ روزگار کا معیار ہے۔ پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہیں جہاں آمدن غیر یقینی، سماجی تحفظ محدود اور اجرت پر سودے بازی کی طاقت کم ہوتی ہے۔

ڈاکٹر وقار وادھو کے مطابق پاکستان کی تقریباً 87 فیصد افرادی قوت ایسے غیر رسمی شعبے میں ہے جہاں مزدوروں کے حقوق، معاہدوں اور پیداواری فوائد کی تقسیم کے ادارہ جاتی نظام کمزور ہیں۔ اصل مسئلہ صرف ہنرمندی کی کمی نہیں بلکہ معیاری رسمی روزگار پیدا کرنے میں معیشت کی ناکامی ہے۔

بل عام آدمی پر کتنا دباؤ ڈالتے ہیں؟

کم آمدن اور بڑھتے اخراجات کے درمیان یہ فاصلہ بجلی، گیس، خوراک، رہائش، تعلیم اور علاج جیسے بنیادی اخراجات سے مزید بڑھ جاتا ہے۔ خاص طور پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست گھر کے بجٹ کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

جون 2026 میں ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ مالیاتی استحکام کے لیے بالواسطہ ٹیکسوں اور سبسڈی میں کمی کا دباؤ پہلے سے مشکلات کا شکار متوسط اور کم متوسط طبقے پر مزید بوجھ ڈال سکتا ہے۔

معیشت استحکام سے ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے؛ حکومت

دوسری طرف حکومت کی اپنی دلیل بھی موجود ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق مشکل معاشی فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا ہے اور اب حکومت کا ہدف استحکام سے پائیدار اور جامع ترقی کی طرف بڑھنا ہے۔

ان کے مطابق مجموعی مالیاتی خسارہ 12.5 فیصد سے کم ہو کر 2.6 فیصد رہ گیا، ایف بی آر کی آمدن میں گزشتہ برسوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہوگیا۔ حکومت نجکاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار کے فروغ کو اگلے مرحلے کی ترجیحات قرار دے رہی ہے۔

لیکن عام گھرانے تک یہ استحکام کب پہنچے گا؟

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ یہ استحکام عام گھرانے تک کب اور کیسے پہنچے گا؟ کیونکہ اگر مالی خسارہ کم ہو رہا ہو، لیکن گھرانے اپنی بچت ختم کر رہے ہوں، اگر مہنگائی کی شرح نیچے آ جائے لیکن قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں، اگر معیشت بڑھ رہی ہو لیکن نئی معیاری ملازمتیں اس رفتار سے پیدا نہ ہوں جس رفتار سے آبادی روزگار کی منڈی میں داخل ہو رہی ہے، تو سرکاری اعداد و شمار اور عوامی تجربے کے درمیان فرق برقرار رہتا ہے۔

جون 2026 میں نجی خبررساں ادارے ’ڈان‘ کے سالانہ پری بجٹ سروے میں بھی اسی خلیج کی تصویر سامنے آئی۔ تقریباً 65 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ ان کے گھرانے کی مالی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں ’کچھ خراب‘ یا ’بہت خراب‘ ہوئی ہے۔

اسی سروے میں 2021 میں 10 فیصد سے زیادہ آمدن بچانے یا سرمایہ کاری کرنے والے گھرانوں کا تناسب 36 فیصد سے زیادہ تھا، جو 2026 میں صرف 12.5 فیصد رہ گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2024 کے مہنگائی کے جھٹکے کے دوران بہت سے گھرانوں نے اپنے معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی بچت استعمال کی یا سرمایہ کاری کم کردی۔

کم از کم اجرت اور بڑھتی ہوئی مالی مشکلات

کم از کم اجرت کا معاملہ بھی اسی تضاد کو واضح کرتا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے 2026-27 کے لیے قومی کم از کم اجرت کا 45 ہزار روپے ماہانہ حوالہ جاتی معیار تجویز کیا، جب کہ موجودہ نوٹیفائیڈ اجرت 40 ہزار روپے تھی۔

ادارے نے اس کی وجہ مسلسل مہنگائی، خوراک اور توانائی کے جھٹکوں، غیر رسمی روزگار اور گھرانوں کی بڑھتی ہوئی کمزوری کو قرار دیا۔

دو مختلف تصویریں، ایک ہی پاکستان

یوں پاکستان کے موجودہ معاشی منظرنامے کو شاید دو مختلف لینز سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک لینز ریاست کے مالیاتی اور معاشی کھاتوں کو دیکھتا ہے، جب کہ دوسرا گھر کے ماہانہ بجٹ کو دیکھتا ہے۔

پہلے میں خسارہ کم، ٹیکس وصولی زیادہ، زرمبادلہ بہتر اور معیشت میں 3.7 فیصد شرح نمو نظر آتی ہے۔ دوسرے میں بجلی کا بل، پٹرول، آٹا، سبزیاں، کرایہ، بچوں کی فیس، علاج اور کم ہوتی ہوئی بچت نظر آتی ہے۔ دونوں تصویریں بیک وقت درست ہیں۔

اصل امتحان کیا ہے؟

اصل چیلنج اب صرف بحران سے نکلنا نہیں بلکہ اس استحکام کو عام آدمی کی قوتِ خرید، روزگار، اجرت، بچت اور معیارِ زندگی میں تبدیل کرنا ہے۔

معاشی استحکام اپنی جگہ ایک اہم کامیابی ہوسکتا ہے، لیکن اس کی اصل کامیابی اس وقت سمجھی جائے گی جب اس کے اثرات قومی اعداد و شمار سے نکل کر عام گھرانے کے بجٹ میں نظر آئیں۔

جب ایک خاندان ضروری اخراجات پورے کرنے کے بعد کچھ رقم بچا سکے، نوجوان کو صرف روزگار نہیں بلکہ بہتر آمدن والا کام مل سکے، بجلی اور خوراک کے اخراجات آمدن کا بڑا حصہ نہ کھا جائیں اور لوگ مستقبل کے لیے دوبارہ کچھ بچت کرنے کے قابل ہوجائیں، تب معاشی استحکام عوام کے لیے ایک حقیقی تجربہ بنے گا۔

فی الحال پاکستان کی معیشت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں ریاست کے معاشی اعداد و شمار بہتری کی کہانی سنا رہے ہیں، مگر صارف اعتماد کے اعداد و شمار عام آدمی کی بے چینی کی۔

یہی فرق بتاتا ہے کہ بحران سے نکلنے کے بعد اگلا اور شاید زیادہ مشکل مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ معیشت کو صرف مستحکم کرنا نہیں بلکہ اس استحکام کا فائدہ عام پاکستانی تک پہنچانا۔